Skip to content
اکبر الہ آبادی اکبر الہ آبادی

نہ روح مذہب نہ قلب عارف نہ شاعرانہ زبان باقی

نہ روح مذہب نہ قلب عارف نہ شاعرانہ زبان باقی زمیں ہماری بدل گئی ہے اگرچہ ہے آسمان باقی شب گزشتہ کے ساز و ساماں کے اب کہاں ہیں نشان باقی زبان شمع سحر پہ حسرت کی رہ گئی داستان باقی جو ذکر آتا ہے آخرت کا تو آپ ہوتے ہیں صاف منکر خدا کی نسبت بھی دیکھتا ہوں یقین رخصت گمان باقی فضول ہے ان کی بد دماغی کہاں ہے فریاد اب لبوں پر یہ وار پر وار اب عبث ہیں کہاں بدن میں ہے جان باقی میں اپنے مٹنے کے غم میں نالاں ادھر زمانہ ہے شاد و خنداں اشارہ کرتی ہے چشم دوراں جو آن باقی جہان باقی اسی لیے رہ گئی ہیں آنکھیں کہ میرے مٹنے کا رنگ دیکھیں سنوں وہ باتیں جو ہوش اڑائیں اسی لیے ہیں یہ کان باقی تعجب آتا ہے طفل دل پر کہ ہو گیا مست نظم اکبرؔ ابھی مڈل پاس تک نہیں ہے بہت سے ہیں امتحان باقی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR