Skip to content
اکبر الہ آبادی اکبر الہ آبادی

ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے

ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے منزل ہستی نہیں ہے دل لگانے کے لیے کیا مجھے خوش آئے یہ حیرت سرائے بے ثبات ہوش اڑنے کے لیے ہے جان جانے کے لیے دل نے دیکھا ہے بساط قوت ادراک کو کیا بڑھے اس بزم میں آنکھیں اٹھانے کے لیے خوب امیدیں بندھیں لیکن ہوئیں حرماں نصیب بدلیاں اٹھیں مگر بجلی گرانے کے لیے سانس کی ترکیب پر مٹی کو پیار آ ہی گیا خود ہوئی قید اس کو سینے سے لگانے کے لیے جب کہا میں نے بھلا دو غیر کو ہنس کر کہا یاد پھر مجھ کو دلانا بھول جانے کے لیے دیدہ بازی وہ کہاں آنکھیں رہا کرتی ہیں بند جان ہی باقی نہیں اب دل لگانے کے لیے مجھ کو خوش آئی ہے مستی شیخ جی کو فربہی میں ہوں پینے کے لیے اور وہ ہیں کھانے کے لیے اللہ اللہ کے سوا آخر رہا کچھ بھی نہ یاد جو کیا تھا یاد سب تھا بھول جانے کے لیے سر کہاں کے ساز کیسا کیسی بزم سامعین جوش دل کافی ہے اکبرؔ تان اڑانے کے لیے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR