Skip to content
اکبر الہ آبادی اکبر الہ آبادی

امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو دل مرا تھا وہ مر چکا ہے

امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو دل مرا تھا وہ مر چکا ہے جو زندگانی کو تلخ کر دے وہ وقت مجھ پر گزر چکا ہے اگرچہ سینے میں سانس بھی ہے نہیں طبیعت میں جان باقی اجل کو ہے دیر اک نظر کی فلک تو کام اپنا کر چکا ہے غریب خانے کی یہ اداسی یہ نا درستی نہیں قدیمی چہل پہل بھی کبھی یہاں تھی کبھی یہ گھر بھی سنور چکا ہے یہ سینہ جس میں یہ داغ میں اب مسرتوں کا کبھی تھا مخزن وہ دل جو ارمان سے بھرا تھا خوشی سے اس میں ٹھہر چکا ہے غریب اکبر کے گرد کیوں میں خیال واعظ سے کوئی کہہ دے اسے ڈراتے ہو موت سے کیا وہ زندگی ہی سے ڈر چکا ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR