Skip to content
اکبر الہ آبادی اکبر الہ آبادی

اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکے

اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکے ان کو ہم قصۂ غم اپنا سنا ہی نہ سکے ذہن میرا وہ قیامت کہ دو عالم پہ محیط آپ ایسے کہ مرے ذہن میں آ ہی نہ سکے دیکھ لیتے جو انہیں تو مجھے رکھتے معذور شیخ صاحب مگر اس بزم میں جا ہی نہ سکے عقل مہنگی ہے بہت عشق خلاف تہذیب دل کو اس عہد میں ہم کام میں لا ہی نہ سکے ہم تو خود چاہتے تھے چین سے بیٹھیں کوئی دم آپ کی یاد مگر دل سے بھلا ہی نہ سکے عشق کامل ہے اسی کا کہ پتنگوں کی طرح تاب نظارۂ معشوق کی لا ہی نہ سکے دام ہستی کی بھی ترکیب عجب رکھی ہے جو پھنسے اس میں وہ پھر جان بچا ہی نہ سکے مظہر جلوۂ جاناں ہے ہر اک شے اکبرؔ بے ادب آنکھ کسی سمت اٹھا ہی نہ سکے ایسی منطق سے تو دیوانگی بہتر اکبرؔ کہ جو خالق کی طرف دل کو جھکا ہی نہ سکے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR