Skip to content
شبلی نعمانی شبلی نعمانی

تیس دن کے لئے ترک مے و ساقی کر لوں

تیس دن کے لئے ترک مے و ساقی کر لوں واعظ سادہ کو روزوں میں تو راضی کر لوں پھینک دینے کی کوئی چیز نہیں فضل و کمال ورنہ حاسد تری خاطر سے میں یہ بھی کر لوں اے نکیرین قیامت ہی پہ رکھو پرسش میں ذرا عمر گزشتہ کی تلافی کر لوں کچھ تو ہو چارۂ غم بات تو یک ہو جائے تم خفا ہو تو اجل ہی کو میں راضی کر لوں اور پھر کس کو پسند آئے گا ویرانۂ دل غم سے مانا بھی کہ اس گھر کو میں خالی کر لوں جور گردوں سے جو مرنے کی بھی فرصت مل جائے امتحان دم جاں پرور عیسی کر لوں دل ہی ملتا نہیں سفلوں سے وگرنہ شبلیؔ خوب گزرے فلک دوں سے جو یاری کر لوں
شبلی نعمانی

شبلی نعمانی

View profile

علامہ شبلی نعمانی کی پیدائش اعظم گڑھ ضلع کے ایک گاؤں بندول جیراج پور میں4 /جون 1857ء کو ہوئی- ابتدائی تعلیم گھر ہی پر مولوی فاروق چریاکوٹی سے حاصل کی- 1876ء میں حج کے لیے تشریف لے گئے۔ وکالت کا امتحان بھی پاس کیا اور وکالت بھی کی مگر اس پیشہ سے دلچسپی نہ ہونے کے سبب ترک کر دی۔ علی گڑھ گئے تو سرسید احمد خان سے ملاقات ہوئی، چنانچہ فارسی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ یہیں سے شبلی نے علمی و تحقیقی زندگی کا آغاز کیا۔ پروفیسر آرنلڈ سے فرانسیسی سیکھی۔ 1892ء میں روم اور شام کا سفر کیا۔ 1898ء میں ملازمت ترک کرکے اعظم گڑھ آ گئے۔ 1913ء میں دار المصنفین کی بنیاد ڈالی۔ 1914ء میں انتقال ہوا۔ شبلی نعمانی ان لوگوں میں ہیں، جو سرسیّد احمد خاں  کے اثر اور فیضِ صحبت  کی بدولت مولویت کے محدود اور تنگ دائرہ سے نکل کر ادب کے وسیع میدان میں آئے۔ شبلی کا شمار اردو تنقید کے بنیاد گزاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنے تنقیدی نظریات کو اپنی دولاجواب کتابوں’’شعرالعجم‘‘ اور’’موازنۂ انیس و دبیر‘‘ میں جامعیت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ موازنہ میں شبلی نے فن مرثیہ نگاری کے بنیادی اصولوں کے ساتھ ساتھ  فصاحت، بلاغت، تشبیہ، استعارے اور دیگر صنعتوں کی تعریف و توضیح کی ہے ۔ شعر العجم میں انھوں نے شعر کی حقیقت و ماہیت، نیز لفظ و معنی کے رشتے کو سمجنے سمجھانے کی کوشش کی ہے اور اس میں انھوں نے اردو کی جملہ کلاسیکی اصناف کا محاکمہ کیا ہے۔ اس میں انھوں نے شاعری کے عناصر حقیقی، تاریخ  و شعر کے فرق اور شاعری اور واقعہ نگاری کے فرق کو واضح کیا ہے۔ وہ شاعری کو ذوقی اور وجدانی چیز سمجھتے تھے جس کی کوئی جامع و مانع تعریف وضع کرنا ممکن نہیں۔ وہ ادراک کے مقابلہ میں جذبہ و احساس کو شاعری کا جوہر حقیقی قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ جذبات کے بغیر شاعری ممکن نہیں،  تاہم اس کا مطلب ہیجان یا ہنگامہ برپا کرنا نہیں بلکہ جذبات میں زندگی اور جولانی پیدا کرنا ہے۔  وہ ہراس چیز کو جو دل پر استعجاب، جوش یا کوئی اور جذبہ پیدا کرے شعر میں شمار کرتے ہیں۔ اس طرح ان کے نزدیک آسمان، ستارے، صبح کی ہوا، کلیوں کی مسکان، بلبل کے نغمے، دشت کی ویرانی اور چمن کی شادابی سب شعر میں شامل ہیں۔ اس طرح شبلی نے شعر کے حسّی اور جمالیاتی پہلو پر زور دیا۔ لفظ و معنی کی بحث میں ان کا جھکاؤ لفظ کی خوبصورتی اور اس کے مناسب استعمال کی طرف ہے۔ وہ لفظ کو جسم اور معنی کو اس کی روح قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر عمدہ معنی عمدہ الفاظ کا جامہ پہن کر سامنے آئیں و زیادہ پُراثر ہوں گے۔ شبلی نعمانی کی علمی خدمات کے اعتراف میں انگریز سرکار نے ان کو شمس العلماء کا خطاب دیا تھا۔ ان کے قائم کردہ ادارے شبلی کالج اور دار المصنفین آج بھی علم و تحقیق کے کاموں میں مصروف ہیں۔اردو زبان شبلی کے احسانات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR