حسرت موہانی حسرت موہانی

پھر بھی ہے تم کو مسیحائی کا دعویٰ دیکھو

پھر بھی ہے تم کو مسیحائی کا دعویٰ دیکھو مجھ کو دیکھو مرے مرنے کی تمنا دیکھو ہم نہ کہتے تھے بناوٹ ہے یہ سارا غصہ ہنس کے لو پھر وہ انھوں نے ہمیں دیکھا دیکھو گھر سے ہر وقت نکل آتے ہو کھولے ہوئے بال شام دیکھو نہ مری جان سویرا دیکھو محفل غیر میں بے پردہ تمہیں دیکھ لیا اب کبھی ہم سے خبردار نہ چھپنا دیکھو خانۂ جاں میں نمودار ہے اک پیکر نور حسرتو آؤ رخ یار کا جلوہ دیکھو دل کو رنگینیٔ خواہش کی خطا پر آخر ملتی ہے اس گل رعنا سے سزا کیا دیکھو سامنے سب کے مناسب نہیں ہم پر یہ عتاب سر سے ڈھل جائے نہ غصے میں دوپٹہ دیکھو مر مٹے ہم تو کبھی یاد بھی تم نے نہ کیا اب محبت کا نہ کرنا کبھی دعویٰ دیکھو سر کہیں بال کہیں ہاتھ کہیں پاؤں کہیں ان کا سونا بھی ہے کس شان کا سونا دیکھو اب وہ شوخی سے یہ کہتے ہیں ستم گر ہیں جو ہم دل کسی اور سے کچھ روز کو بہلا دیکھو واعظو منہ میں تمہارے بھی بھر آئے پانی مئے رنگیں کا جو ساغر سے چھلکنا دیکھو بات کیا ہے جو ہوئے جاتے ہو تم یوں ہی خفا مجھ کو دیکھو نہ مرے دل کا دھڑکنا دیکھو جرم نظارہ پہ کون اتنی خوشامد کرتا اب وہ روٹھے ہیں لو اور تماشا دیکھو مستیٔ حسن سے اپنی بھی نہیں تم کو خبر کیا سنو عرض مری حال مرا کیا دیکھو دوستو ترک محبت کی نصیحت ہے فضول اور نہ مانو تو دل زار کو سمجھا دیکھو ہوس دید مٹی ہے نہ مٹے گی حسرتؔ دیکھنے کے لیے چاہو انہیں جتنا دیکھو
حسرت موہانی

حسرت موہانی

View profile →

حسرت موہانی (پیدائش: 4 اکتوبر 1875ء– وفات: 13 مئی 1951ء) بیسویں صدی کے اردو زبان کے مشہور شاعر اور مجاہد آزادی تھے۔اصل نام سید فضل الحسن اور تخلص حسرت، قصبہ موہان ضلع اناؤ میں 1875ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام سید اظہر حسین تھا۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ 1903ء میں علی گڑھ سے بی اے کیا۔ عربی کی تعلیم مولانا سید ظہور الاسلام فتحپوری سے اور فارسی کی تعلیم مولانا نیاز فتح پوری کے والد محمد امیر خان سے حاصل کی تھی۔ حسرت سودیشی تحریک کے زبردست حامیوں میں سے تھے اور انہوں نے آخری وقت تک کوئی ولایتی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا۔ شروع ہی سے شاعری کا ذوق تھا۔ اپنا کلام تسنیم لکھنوی کو دکھانے لگے۔ 1903ء میں علی گڑھ سے ایک رسالہ ”اردوئے معلی“ جاری کیا۔ اسی دوران شعرائے متقدمین کے دیوانوں کا انتخاب کرنا شروع کیا۔ سودیشی تحریکوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔ چنانچہ علامہ شبلی نے ایک مرتبہ کہا تھا: ”تم آدمی ہو یا جن، پہلے شاعر تھے پھر سیاست دان بنے اور اب بنئے ہو گئے ہو۔“ حسرت پہلے کانگریسی تھے۔ حکومت کانگریس کے خلاف تھی، چنانچہ 1907ء میں ایک مضمون شائع کرنے پر پہلی بار جیل بھیج دیے گئے۔ اس کے بعد 1947ء تک کئی بار قید اور رہا ہوئے۔ اس دوران میں ان کی مالی حالت تباہ ہو گئی تھی۔ رسالہ بھی بند ہو چکا تھا۔ مگر ان تمام مصائب کو انہوں نے نہایت خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور مشق سخن کو بھی جاری رکھا۔ آپ کو ‘رئیس المتغزلین‘ بھی کہا جاتا ہے- مولانا حسرت موہانی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ حسرت موہانی نے کل 13 حج کئے۔ پہلا حج 1933ء میں کیا اور آخری حج 1950 میں ادا کیا۔ 1938ء میں حج کے بعد واپسی پر مصر، عراق اور ایران بھی گئے۔

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR