حسرت موہانی حسرت موہانی

ان کو جو شغل ناز سے فرصت نہ ہو سکی

ان کو جو شغل ناز سے فرصت نہ ہو سکی ہم نے یہ کہہ دیا کہ محبت نہ ہو سکی شکر جفا بھی اہل رضا نے کیا ادا ان سے یہی نہیں کہ شکایت نہ ہو سکی شب کا یہ حال ہے کہ تری یاد کے سوا دل کو کسی خیال سے راحت نہ ہو سکی پابوس کی بھی ہم کو اجازت نہ دے سکے اتنی بھی تم سے قدر محبت نہ ہو سکی غرق سرور و سور مجھے پا کے دفعتاً ناصح سے ترک مے کی نصیحت نہ ہو سکی خاموشیوں کا راز محبت وہ پا گئے گو ہم سے عرض حال کی جرأت نہ ہو سکی کر دی زبان شوق نے سب شرح آرزو الفاظ میں اگرچہ صراحت نہ ہو سکی لطف مزید کی میں تمنا تو کر سکا تم یہ تو کہہ سکے کہ قناعت نہ ہو سکی کیوں اتنی جلد ہو گئے گھبرا کے ہم فنا اے درد یار کچھ تری خدمت نہ ہو سکی واعظ کو اپنے عیب ریا کا رہا خیال رندوں کی صاف صاف مذمت نہ ہو سکی ارباب قال حال پہ غالب نہ آ سکے زاہد سے عاشقوں کی امامت نہ ہو سکی ایسا بھی کیا عتاب کہ ساقی بچی کھچی آخر میں کچھ بھی ہم کو عنایت نہ ہو سکی ان سے میں اپنے دل کا تقاضا نہ کر سکا یہ بات تھی خلاف مروت نہ ہو سکی کیوں آئے ہوش میں جو عبادت نہ کر سکے پیر مغاں کی ہم سے اطاعت نہ ہو سکی حسرتؔ تری نگاہ محبت کو کیا کہوں محفل میں رات ان سے شرارت نہ ہو سکی
حسرت موہانی

حسرت موہانی

View profile →

حسرت موہانی (پیدائش: 4 اکتوبر 1875ء– وفات: 13 مئی 1951ء) بیسویں صدی کے اردو زبان کے مشہور شاعر اور مجاہد آزادی تھے۔اصل نام سید فضل الحسن اور تخلص حسرت، قصبہ موہان ضلع اناؤ میں 1875ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام سید اظہر حسین تھا۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ 1903ء میں علی گڑھ سے بی اے کیا۔ عربی کی تعلیم مولانا سید ظہور الاسلام فتحپوری سے اور فارسی کی تعلیم مولانا نیاز فتح پوری کے والد محمد امیر خان سے حاصل کی تھی۔ حسرت سودیشی تحریک کے زبردست حامیوں میں سے تھے اور انہوں نے آخری وقت تک کوئی ولایتی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا۔ شروع ہی سے شاعری کا ذوق تھا۔ اپنا کلام تسنیم لکھنوی کو دکھانے لگے۔ 1903ء میں علی گڑھ سے ایک رسالہ ”اردوئے معلی“ جاری کیا۔ اسی دوران شعرائے متقدمین کے دیوانوں کا انتخاب کرنا شروع کیا۔ سودیشی تحریکوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔ چنانچہ علامہ شبلی نے ایک مرتبہ کہا تھا: ”تم آدمی ہو یا جن، پہلے شاعر تھے پھر سیاست دان بنے اور اب بنئے ہو گئے ہو۔“ حسرت پہلے کانگریسی تھے۔ حکومت کانگریس کے خلاف تھی، چنانچہ 1907ء میں ایک مضمون شائع کرنے پر پہلی بار جیل بھیج دیے گئے۔ اس کے بعد 1947ء تک کئی بار قید اور رہا ہوئے۔ اس دوران میں ان کی مالی حالت تباہ ہو گئی تھی۔ رسالہ بھی بند ہو چکا تھا۔ مگر ان تمام مصائب کو انہوں نے نہایت خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور مشق سخن کو بھی جاری رکھا۔ آپ کو ‘رئیس المتغزلین‘ بھی کہا جاتا ہے- مولانا حسرت موہانی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ حسرت موہانی نے کل 13 حج کئے۔ پہلا حج 1933ء میں کیا اور آخری حج 1950 میں ادا کیا۔ 1938ء میں حج کے بعد واپسی پر مصر، عراق اور ایران بھی گئے۔

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR