Skip to content
حسرت موہانی حسرت موہانی

ترے درد سے جس کو نسبت نہیں ہے

ترے درد سے جس کو نسبت نہیں ہے وہ راحت مصیبت ہے راحت نہیں ہے جنون محبت کا دیوانہ ہوں میں مرے سر میں سودائے حکمت نہیں ہے ترے غم کی دنیا میں اے جان عالم کوئی روح محروم راحت نہیں ہے مجھے گرم نظارہ دیکھا تو ہنس کر وہ بولے کہ اس کی اجازت نہیں ہے جھکی ہے ترے بار عرفاں سے گردن ہمیں سر اٹھانے کی فرصت نہیں ہے یہ ہے ان کے اک روئے رنگیں کا پرتو بہار طلسم لطافت نہیں ہے ترے سرفروشوں میں ہے کون ایسا جسے دل سے شوق شہادت نہیں ہے تغافل کا شکوہ کروں ان سے کیونکر وہ کہہ دیں گے تو بے مروت نہیں ہے وہ کہتے ہیں شوخی سے ہم دل ربا ہیں ہمیں دل نوازی کی عادت نہیں ہے شہیدان غم ہیں سبک روح کیا کیا کہ اس دل پہ بار ندامت نہیں ہے نمونہ ہے تکمیل حسن سخن کا گہر بارئ طبع حسرتؔ نہیں ہے
حسرت موہانی

حسرت موہانی

View profile

حسرت موہانی (پیدائش: 4 اکتوبر 1875ء– وفات: 13 مئی 1951ء) بیسویں صدی کے اردو زبان کے مشہور شاعر اور مجاہد آزادی تھے۔اصل نام سید فضل الحسن اور تخلص حسرت، قصبہ موہان ضلع اناؤ میں 1875ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام سید اظہر حسین تھا۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ 1903ء میں علی گڑھ سے بی اے کیا۔ عربی کی تعلیم مولانا سید ظہور الاسلام فتحپوری سے اور فارسی کی تعلیم مولانا نیاز فتح پوری کے والد محمد امیر خان سے حاصل کی تھی۔ حسرت سودیشی تحریک کے زبردست حامیوں میں سے تھے اور انہوں نے آخری وقت تک کوئی ولایتی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا۔ شروع ہی سے شاعری کا ذوق تھا۔ اپنا کلام تسنیم لکھنوی کو دکھانے لگے۔ 1903ء میں علی گڑھ سے ایک رسالہ ”اردوئے معلی“ جاری کیا۔ اسی دوران شعرائے متقدمین کے دیوانوں کا انتخاب کرنا شروع کیا۔ سودیشی تحریکوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔ چنانچہ علامہ شبلی نے ایک مرتبہ کہا تھا: ”تم آدمی ہو یا جن، پہلے شاعر تھے پھر سیاست دان بنے اور اب بنئے ہو گئے ہو۔“ حسرت پہلے کانگریسی تھے۔ حکومت کانگریس کے خلاف تھی، چنانچہ 1907ء میں ایک مضمون شائع کرنے پر پہلی بار جیل بھیج دیے گئے۔ اس کے بعد 1947ء تک کئی بار قید اور رہا ہوئے۔ اس دوران میں ان کی مالی حالت تباہ ہو گئی تھی۔ رسالہ بھی بند ہو چکا تھا۔ مگر ان تمام مصائب کو انہوں نے نہایت خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور مشق سخن کو بھی جاری رکھا۔ آپ کو ‘رئیس المتغزلین‘ بھی کہا جاتا ہے- مولانا حسرت موہانی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ حسرت موہانی نے کل 13 حج کئے۔ پہلا حج 1933ء میں کیا اور آخری حج 1950 میں ادا کیا۔ 1938ء میں حج کے بعد واپسی پر مصر، عراق اور ایران بھی گئے۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR