حسرت موہانی حسرت موہانی

ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی

ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی اک طرفہ تماشا ہے حسرتؔ کی طبیعت بھی جو چاہو سزا دے لو تم اور بھی کھل کھیلو پر ہم سے قسم لے لو کی ہو جو شکایت بھی دشوار ہے رندوں پر انکار کرم یکسر اے ساقئ جاں پرور کچھ لطف و عنایت بھی دل بسکہ ہے دیوانہ اس حسن گلابی کا رنگیں ہے اسی رو سے شاید غم فرقت بھی خود عشق کی گستاخی سب تجھ کو سکھا دے گی اے حسن حیاپرور شوخی بھی شرارت بھی برسات کے آتے ہی توبہ نہ رہی باقی بادل جو نظر آئے بدلی میری نیت بھی عشاق کے دل نازک اس شوخ کی خو نازک نازک اسی نسبت سے ہے کار محبت بھی رکھتے ہیں مرے دل پر کیوں تہمت بیتابی یاں نالۂ مضطر کی جب مجھ میں ہو قوت بھی اے شوق کی بیباکی وہ کیا تیری خواہش تھی جس پر انہیں غصہ ہے انکار بھی حیرت بھی ہر چند ہے دل شیدا حریت کامل کا منظور دعا لیکن ہے قید محبت بھی ہیں شادؔ و صفیؔ شاعر یا شوقؔ و وفاؔ حسرتؔ پھر ضامنؔ و محشرؔ ہیں اقبالؔ بھی وحشتؔ بھی
حسرت موہانی

حسرت موہانی

View profile →

حسرت موہانی (پیدائش: 4 اکتوبر 1875ء– وفات: 13 مئی 1951ء) بیسویں صدی کے اردو زبان کے مشہور شاعر اور مجاہد آزادی تھے۔اصل نام سید فضل الحسن اور تخلص حسرت، قصبہ موہان ضلع اناؤ میں 1875ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام سید اظہر حسین تھا۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ 1903ء میں علی گڑھ سے بی اے کیا۔ عربی کی تعلیم مولانا سید ظہور الاسلام فتحپوری سے اور فارسی کی تعلیم مولانا نیاز فتح پوری کے والد محمد امیر خان سے حاصل کی تھی۔ حسرت سودیشی تحریک کے زبردست حامیوں میں سے تھے اور انہوں نے آخری وقت تک کوئی ولایتی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا۔ شروع ہی سے شاعری کا ذوق تھا۔ اپنا کلام تسنیم لکھنوی کو دکھانے لگے۔ 1903ء میں علی گڑھ سے ایک رسالہ ”اردوئے معلی“ جاری کیا۔ اسی دوران شعرائے متقدمین کے دیوانوں کا انتخاب کرنا شروع کیا۔ سودیشی تحریکوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔ چنانچہ علامہ شبلی نے ایک مرتبہ کہا تھا: ”تم آدمی ہو یا جن، پہلے شاعر تھے پھر سیاست دان بنے اور اب بنئے ہو گئے ہو۔“ حسرت پہلے کانگریسی تھے۔ حکومت کانگریس کے خلاف تھی، چنانچہ 1907ء میں ایک مضمون شائع کرنے پر پہلی بار جیل بھیج دیے گئے۔ اس کے بعد 1947ء تک کئی بار قید اور رہا ہوئے۔ اس دوران میں ان کی مالی حالت تباہ ہو گئی تھی۔ رسالہ بھی بند ہو چکا تھا۔ مگر ان تمام مصائب کو انہوں نے نہایت خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور مشق سخن کو بھی جاری رکھا۔ آپ کو ‘رئیس المتغزلین‘ بھی کہا جاتا ہے- مولانا حسرت موہانی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ حسرت موہانی نے کل 13 حج کئے۔ پہلا حج 1933ء میں کیا اور آخری حج 1950 میں ادا کیا۔ 1938ء میں حج کے بعد واپسی پر مصر، عراق اور ایران بھی گئے۔

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR