Skip to content
فانی بدایونی فانی بدایونی

لطف و کرم کے پتلے ہو اب قہر و ستم کا نام نہیں

لطف و کرم کے پتلے ہو اب قہر و ستم کا نام نہیں دل پہ خدا کی مار کہ پھر بھی چین نہیں آرام نہیں جتنے منہ ہیں اتنی باتیں دل کا پتہ کیا خاک چلے جس نے دل کی چوری کی ہے ایک اسی کا نام نہیں جلوہ و دل میں فرق نہیں جلوے کو ہی اب دل کہتے ہیں یعنی عشق کی ہستی کا آغاز تو ہے انجام نہیں رک کے جو سانسیں آئیں گئیں مانا کہ وہ آہیں تھیں لیکن آپ نے تیور کیوں بدلے آہوں میں کسی کا نام نہیں عشق کے آزاری بھی کہیں مر جانے سے جی جاتے ہیں لے یہ تسلی رہنے دے اے موت یہ تیرا کام نہیں کب سے پڑی ہیں دل میں تیرے ذکر کی ساری راہیں بند برسوں گزرے اس بستی میں رسم سلام و پیام نہیں حد تھی یہ بیتابی دل کی جانیے اب کیا ہونا ہے صبر کی حد بھی ہونے آئی صبح نہیں یا شام نہیں دل پہ اپنا بس نہیں چلتا ان کی شکایت کیا کیجے آپ ہم اپنے دشمن ٹھہرے دوست پہ کچھ الزام نہیں دل سے کسی کی آنکھوں تک کچھ راز کی باتیں پہنچی ہیں آنکھ سے دل تک آیا ہو ایسا تو کوئی پیغام نہیں نزع میں فانیؔ تو نے یہ کس کا چپکے چپکے نام لیا کیوں او کافر تیری زباں پر اب بھی خدا کا نام نہیں
فانی بدایونی

فانی بدایونی

View profile

فانی بدایونی (پیدائش: 13 ستمبر 1879ء— وفات: 27 اگست 1961ء) اردو کے شاعر تھے۔شوکت علی فانی 1879ء میں بدایون میں پیدا ہوئے۔ فانی کے والد محمد شجاعت علی خان محکمہ پولیس میں انسپکٹر تھے۔ روش زمانہ کے مطابق پہلے عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انگریزی پڑھی اور 1901ء میں بریلی سے بی اے کیا۔ کالج چھوڑنے کے بعد کچھ عرصہ پریشانی کے عالم میں گزارا۔ لیکن شعر و سخن کی دلچسپیاں ان کی تسلی کا ذریعہ بنی رہیں۔ 1908ء میں علی گڑھ سے ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔ لیکن وکالت کے پیشے سے انہیں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ صرف والد کے مجبور کرنے پر وکالت شروع کی اور کچھ عرصہ بریلی اور لکھنؤ میں پریکٹس کرتے رہے۔ لیکن قانون سے لگاؤ نہ ہونے کی وجہ سے بحیثیت وکیل کامیاب وکیل ثابت نہ ہوئے۔ مجموعی طور سے فانی کی زندگی پریشانی میں گذری۔ لیکن جس وقار اور فراخ دلی کے ساتھ انہوں نے مصائب کو برداشت کیا وہ انہی کا کام تھا۔ ان کی اس پریشان حالی سے متاثر ہو کر مہاراجا حیدرآباد نے انہیں اپنے پاس بلا لیا اور اسٹیٹ سے تنخواہ مقرر کر دی۔ پھر وہ محکمہ تعلیم میں ملازم ہوئے اور ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے اسی اثناء میں رفیقہ حیات فوت ہوگئیں۔ 1933ء میں جواں سال بیٹی کا انتقال ہو گیا۔ جس سے فانی کے دل کو ٹھیس لگی۔ آخر کار ساری زندگی ناکامیوں اور مایوسیوں میں بسر کی اور 82 سال کی عمر 1961ء میں وفات پائی۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR