Skip to content
فانی بدایونی فانی بدایونی

خلق کہتی ہے جسے دل ترے دیوانے کا

خلق کہتی ہے جسے دل ترے دیوانے کا ایک گوشہ ہے یہ دنیا اسی ویرانے کا اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا حسن ہے ذات مری عشق صفت ہے میری ہوں تو میں شمع مگر بھیس ہے پروانے کا کعبہ کو دل کی زیارت کے لیے جاتا ہوں آستانہ ہے حرم میرے صنم خانے کا مختصر قصۂ غم یہ ہے کہ دل رکھتا ہوں راز کونین خلاصہ ہے اس افسانے کا زندگی بھی تو پشیماں ہے یہاں لا کے مجھے ڈھونڈتی ہے کوئی حیلہ مرے مر جانے کا تم نے دیکھا ہے کبھی گھر کو بدلتے ہوئے رنگ آؤ دیکھو نہ تماشا مرے غم خانے کا اب اسے دار پہ لے جا کے سلا دے ساقی یوں بہکنا نہیں اچھا ترے مستانے کا دل سے پہنچی تو ہیں آنکھوں میں لہو کی بوندیں سلسلہ شیشے سے ملتا تو ہے پیمانے کا ہڈیاں ہیں کئی لپٹی ہوئی زنجیروں میں لیے جاتے ہیں جنازہ ترے دیوانے کا وحدت حسن کے جلووں کی یہ کثرت اے عشق دل کے ہر ذرے میں عالم ہے پری خانے کا چشم ساقی اثر مئے سے نہیں ہے گل رنگ دل مرے خون سے لبریز ہے پیمانے کا لوح دل کو غم الفت کو قلم کہتے ہیں کن ہے انداز رقم حسن کے افسانے کا ہم نے چھانی ہیں بہت دیر و حرم کی گلیاں کہیں پایا نہ ٹھکانا ترے دیوانے کا کس کی آنکھیں دم آخر مجھے یاد آئی ہیں دل مرقع ہے چھلکتے ہوئے پیمانے کا کہتے ہیں کیا ہی مزے کا ہے فسانہ فانیؔ آپ کی جان سے دور آپ کے مر جانے کا ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانیؔ زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا
فانی بدایونی

فانی بدایونی

View profile

فانی بدایونی (پیدائش: 13 ستمبر 1879ء— وفات: 27 اگست 1961ء) اردو کے شاعر تھے۔شوکت علی فانی 1879ء میں بدایون میں پیدا ہوئے۔ فانی کے والد محمد شجاعت علی خان محکمہ پولیس میں انسپکٹر تھے۔ روش زمانہ کے مطابق پہلے عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انگریزی پڑھی اور 1901ء میں بریلی سے بی اے کیا۔ کالج چھوڑنے کے بعد کچھ عرصہ پریشانی کے عالم میں گزارا۔ لیکن شعر و سخن کی دلچسپیاں ان کی تسلی کا ذریعہ بنی رہیں۔ 1908ء میں علی گڑھ سے ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔ لیکن وکالت کے پیشے سے انہیں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ صرف والد کے مجبور کرنے پر وکالت شروع کی اور کچھ عرصہ بریلی اور لکھنؤ میں پریکٹس کرتے رہے۔ لیکن قانون سے لگاؤ نہ ہونے کی وجہ سے بحیثیت وکیل کامیاب وکیل ثابت نہ ہوئے۔ مجموعی طور سے فانی کی زندگی پریشانی میں گذری۔ لیکن جس وقار اور فراخ دلی کے ساتھ انہوں نے مصائب کو برداشت کیا وہ انہی کا کام تھا۔ ان کی اس پریشان حالی سے متاثر ہو کر مہاراجا حیدرآباد نے انہیں اپنے پاس بلا لیا اور اسٹیٹ سے تنخواہ مقرر کر دی۔ پھر وہ محکمہ تعلیم میں ملازم ہوئے اور ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے اسی اثناء میں رفیقہ حیات فوت ہوگئیں۔ 1933ء میں جواں سال بیٹی کا انتقال ہو گیا۔ جس سے فانی کے دل کو ٹھیس لگی۔ آخر کار ساری زندگی ناکامیوں اور مایوسیوں میں بسر کی اور 82 سال کی عمر 1961ء میں وفات پائی۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR