Skip to content
یگانہ چنگیزی یگانہ چنگیزی

دل عجب جلوۂ امید دکھاتا ہے مجھے

دل عجب جلوۂ امید دکھاتا ہے مجھے شام سے یاسؔ سویرا نظر آتا ہے مجھے جلوۂ دار و رسن اپنے نصیبوں میں کہاں کون دنیا کی نگاہوں پہ چڑھاتا ہے مجھے دل کو لہراتا ہے ہنگامۂ زندان بلا شور ایذا طلبی وجد میں لاتا ہے مجھے پائے آزاد ہے زنداں کے چلن سے باہر بیڑیاں کیوں کوئی دیوانہ پہناتا ہے مجھے ہنس کے کہتا ہے کہ گھر اپنا قفس کو سمجھو سبق الٹا مرا صیاد پڑھاتا ہے مجھے جیسے دوزخ کی ہوا کھا کے ابھی آیا ہے کس قدر واعظ مکار ڈراتا ہے مجھے پھٹ پڑیں اب ہی در و بام تو پردہ رہ جائے فلک خانہ خراب آنکھ دکھاتا ہے مجھے دیدنی ہے چمن آرائیٔ چشم عبرت سیر تازہ گل پژمردہ دکھاتا ہے مجھے ترک مطلب سے ہے مطلب تو دعائیں کیسی صبح تک کیوں دل بیمار جگاتا ہے مجھے ننگ محفل مرا زندہ مرا مردہ بھاری کون اٹھاتا ہے مجھے کون بٹھاتا ہے مجھے لب دریا کا ہوا میں نہ تہ دریا کا کون سے گھاٹ یہ دھارا لیے جاتا ہے مجھے پاؤں سوئے ہیں مگر جاگتے ہیں اپنے نصیب کیا سمجھ کر جرس گنگ جگاتا ہے مجھے یاسؔ منزل ہے مری منزل عنقائے کمال لکھنؤ میں کوئی کیوں ڈھونڈنے آتا ہے مجھے
یگانہ چنگیزی

یگانہ چنگیزی

View profile

یاس یگانہ چنگیزی(پیدائش: 17 اکتوبر 1884ء – وفات: 4 فروری 1956ء) ہندوستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر تھے۔یگانہ چنگیزی کا اصل نام مرزا افضل علی بیگ المعروف واجد حسین تھا۔ پہلے یاسؔ تخلص کرتے تھے لیکن بعد میں یگانہ ؔہو گئے۔ ان کے اجداد ھزارستان غزنی سے ہندوستان آئے اور سلطنت مغلیہ کے دربار سے وابستہ ہو گئے۔ پرگنہ حویلی عظیم آباد میں جاگیریں ملیں اور وہیں سکونت پزیر ہوئے۔ اسکول کے زمانے سے انہوں نے شاعری کا آغا کیا اور بیتاب عظیم آباد ی سے کے شاگرد ہوئے۔ سنہ 1903ء میں کلکتہ یونیورسٹی سے انٹرنس کا امتحان پاس کیا اور اس کے بعد معاش کی جستجو میں مصروف ہو گئے، جس میں انہیں در در کی خاک چھاننی پڑی۔ چونکہ ان کی شادی لکھنؤ میں ہوئی تھی، اس لیے وہ لکھنؤ میں جا بسے لیکن وہاں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ اپنی شاعری میں یگانہ تھے۔ انہوں نے ہمیشہ وہ راہ ترک کر دی جو پہلے سے مستعمل تھی، اس لیے لکھنؤ اسکول میں آتش کے بعد یگانہ ہی سب سے منفرد شاعر ہیں، جن کی آواز سب سے الگ محسوس ہو تی ہے۔ یاس یگانہ کا کلام ان کے مختلف مجموعوں اور اس زمانے کے رسالوں میں بکھرا ہوا تھا۔ ان اوراقِ لخت لخت کو نام ور محقق مشفق خواجہ نے اکٹھا کر 2003ء میں کلیاتِ یگانہ شائع کی، جس نے یگانہ کی شاعرانہ شخصیت کی بازیافت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔یگانہؔ ایک کلاسیکی غزل گو شاعر تھے۔ حالانکہ انہوں نے قطعات و رباعیات بھی کہی ہیں لیکن ان کی اصل پہچان ان کی غزلیں ہی ہیں۔ انہوں نے غزل کے موضوعات کے دائرے کو ایک نئی جہت اور اونچائی عطا کی اور ایسے مضامین نظم کیے جو پہلی بار حقیقت پسندانہ کیفیت کے ساتھ غزل کے افق پر نمودار ہوئے۔ وہ خود اپنی ذاتی زندگی میں، جس طرح کے شیریں و تلخ تجربات سے گزرے تھے اور زندگی کے اتار چڑھاؤ کا جس طرح تجربہ کیا تھا، اس سے ان کے دل و دماغ نے جو تاثرات قبول کیے تھے، انہیں واقعات نے ان کی غزلوں کو اصلیت پسندی اور تابناکی بخشی۔ ان کی غزل گوئی ان کے مزاج کی آئینہ دار ہے۔ وہ ایک خود دار اور صاف گو انسان تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں بھی اس کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے ۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR