Skip to content
یگانہ چنگیزی یگانہ چنگیزی

محروم شہادت کی ہے کچھ تجھ کو خبر بھی

محروم شہادت کی ہے کچھ تجھ کو خبر بھی او دشمن جاں دیکھ ذرا پھر کے ادھر بھی ہے جان کے ساتھ اور اک ایمان کا ڈر بھی وہ شوخ کہیں دیکھ نہ لے مڑ کے ادھر بھی وہ ہم سے نہیں ملتے ہم ان سے نہیں ملتے اک ناز دل آویز ادھر بھی ہے ادھر بھی ٹھنڈا ہو کلیجا مرا اس آہ سحر سے جب دل کی طرح جلنے لگے غیر کا گھر بھی اللہ ری بے تابئ دل وصل کی شب کو کچھ کشمکش شوق بھی کچھ صبح کا ڈر بھی انگڑائیاں لے لے کے اٹھے صاحب محفل کچھ نیند بھی آنکھوں میں ہے کچھ مے کا اثر بھی ہم مانگتے ہی کیوں جو یہی جانتے ساقی پھر جائے گی قسمت کی طرح تیری نظر بھی ہم ہاتھ سے دل تھامے ہوئے دور کھڑے ہیں دیکھیں تو کوئی لیتا ہے کچھ اس کا اثر بھی اے جذبۂ دل دیکھ بہت تو نے کمی کی ہاں آہوں میں اب چاہیے تھوڑا سا اثر بھی اب چپ رہو جو دل پہ گزرنی تھی وہ گزری ایسا نہ ہو پھٹ جائے کہیں زخم جگر بھی محروم شہادت تجھے کچھ شرم نہ آئی کم بخت گلا کاٹ کے جلدی کہیں مر بھی بھاری ہے مسافر پہ بہت گور کی منزل سنتے ہیں کہ اس راہ میں ہے جان کا ڈر بھی وہ کشمکش غم ہے کہ میں کہہ نہیں سکتا آغاز کا افسوس اور انجام کا ڈر بھی کھول آنکھیں ذرا مست ہے کیا ساغر جم سے ہے گردش ایام کی کچھ تجھ کو خبر بھی لیلیٔ شب ہجر نے بکھرا دیے گیسو ماتم میں مرے چاک گریباں ہے سحر بھی کس شان سے آتی ہے مری شام مصیبت وہ دیکھو جلو میں ہے قیامت کی سحر بھی بجھتی ہوئی اک شمع ہوں کیا دم کا بھروسا دشمن ہے مری جان کی اب آہ سحر بھی دیکھے کوئی جاتی ہوئی دنیا کا تماشا بیمار بھی سر دھنتا ہے اور شمع سحر بھی صحرا کی ہوا کھینچے لیے جاتی ہے مجھ کو کہتا ہے وطن دیکھ ذرا پھر کے ادھر بھی ہاں کٹ گئی شاید ترے دیوانے کی بیڑی پچھلے پہر آئی تھی کچھ آواز ادھر بھی کیا وعدۂ دیدار کو سچ جانتے ہو یاسؔ لو فرض کرو آئی قیامت کی سحر بھی اللہ مبارک کرے پیری کی سحر یاسؔ مرنے کی تمنا تھی تو لے اب کہیں مر بھی
یگانہ چنگیزی

یگانہ چنگیزی

View profile

یاس یگانہ چنگیزی(پیدائش: 17 اکتوبر 1884ء – وفات: 4 فروری 1956ء) ہندوستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر تھے۔یگانہ چنگیزی کا اصل نام مرزا افضل علی بیگ المعروف واجد حسین تھا۔ پہلے یاسؔ تخلص کرتے تھے لیکن بعد میں یگانہ ؔہو گئے۔ ان کے اجداد ھزارستان غزنی سے ہندوستان آئے اور سلطنت مغلیہ کے دربار سے وابستہ ہو گئے۔ پرگنہ حویلی عظیم آباد میں جاگیریں ملیں اور وہیں سکونت پزیر ہوئے۔ اسکول کے زمانے سے انہوں نے شاعری کا آغا کیا اور بیتاب عظیم آباد ی سے کے شاگرد ہوئے۔ سنہ 1903ء میں کلکتہ یونیورسٹی سے انٹرنس کا امتحان پاس کیا اور اس کے بعد معاش کی جستجو میں مصروف ہو گئے، جس میں انہیں در در کی خاک چھاننی پڑی۔ چونکہ ان کی شادی لکھنؤ میں ہوئی تھی، اس لیے وہ لکھنؤ میں جا بسے لیکن وہاں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ اپنی شاعری میں یگانہ تھے۔ انہوں نے ہمیشہ وہ راہ ترک کر دی جو پہلے سے مستعمل تھی، اس لیے لکھنؤ اسکول میں آتش کے بعد یگانہ ہی سب سے منفرد شاعر ہیں، جن کی آواز سب سے الگ محسوس ہو تی ہے۔ یاس یگانہ کا کلام ان کے مختلف مجموعوں اور اس زمانے کے رسالوں میں بکھرا ہوا تھا۔ ان اوراقِ لخت لخت کو نام ور محقق مشفق خواجہ نے اکٹھا کر 2003ء میں کلیاتِ یگانہ شائع کی، جس نے یگانہ کی شاعرانہ شخصیت کی بازیافت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔یگانہؔ ایک کلاسیکی غزل گو شاعر تھے۔ حالانکہ انہوں نے قطعات و رباعیات بھی کہی ہیں لیکن ان کی اصل پہچان ان کی غزلیں ہی ہیں۔ انہوں نے غزل کے موضوعات کے دائرے کو ایک نئی جہت اور اونچائی عطا کی اور ایسے مضامین نظم کیے جو پہلی بار حقیقت پسندانہ کیفیت کے ساتھ غزل کے افق پر نمودار ہوئے۔ وہ خود اپنی ذاتی زندگی میں، جس طرح کے شیریں و تلخ تجربات سے گزرے تھے اور زندگی کے اتار چڑھاؤ کا جس طرح تجربہ کیا تھا، اس سے ان کے دل و دماغ نے جو تاثرات قبول کیے تھے، انہیں واقعات نے ان کی غزلوں کو اصلیت پسندی اور تابناکی بخشی۔ ان کی غزل گوئی ان کے مزاج کی آئینہ دار ہے۔ وہ ایک خود دار اور صاف گو انسان تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں بھی اس کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے ۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR