Skip to content
یگانہ چنگیزی یگانہ چنگیزی

چراغ زیست بجھا دل سے اک دھواں نکلا

چراغ زیست بجھا دل سے اک دھواں نکلا لگا کے آگ مرے گھر سے میہماں نکلا دل اپنا خاک تھا پھر خاک کو جلانا کیا نہ کوئی شعلہ اٹھا اور نہ کچھ دھواں نکلا سنیں گے چھیڑ کے افسانۂ دل مرحوم ادھر سے ملک عدم کا جو کارواں نکلا تڑپ کے آبلہ پا اٹھ کھڑے ہوئے آخر تلاش یار میں جب کوئی کارواں نکلا لہو لگا کے شہیدوں میں ہو گئے داخل ہوس تو نکلی مگر حوصلہ کہاں نکلا حریم ناز میں شاید کسی کو دخل نہیں دل عزیز بھی نا خواندہ میہماں نکلا نہاں تھا خانۂ دل میں ہی شاہد مقصود جو بے نشاں تھا وہ دیوار درمیاں نکلا ہے فن عشق کا استاد بس دل وحشی مریض غم کا یہی اک مزاج داں نکلا لگا ہے دل کو اب انجام کار کا کھٹکا بہار گل سے بھی اک پہلوئے خزاں نکلا زمانہ پھر گیا چلنے لگی ہوا الٹی چمن کو آگ لگا کر جو باغباں نکلا ہمارے صبر کی کھاتے ہیں اب قسم اغیار جفا کشی کا مزہ بعد امتحاں نکلا خوشی سے ہو گئے بد خواہ میرے شادیٔ مرگ کفن پہن کے جو میں گھر سے ناگہاں نکلا اجل سے بڑھ کے محافظ نہیں کوئی اپنا خدا کی شان کہ دشمن نگاہ باں نکلا دکھایا گور سکندر نے بڑھ کے آئینہ جو سر اٹھا کے کوئی زیر آسماں نکلا لحد سے بڑھ کے نہیں کوئی گوشۂ راحت قیامت آئی جو اس گھر سے میہماں نکلا اب اپنی روح ہے اور سیر عالم بالا کنویں سے یوسف گم کردہ کارواں نکلا کلام یاسؔ سے دنیا میں پھر اک آگ لگی یہ کون حضرت آتشؔ کا ہم زباں نکلا
یگانہ چنگیزی

یگانہ چنگیزی

View profile

یاس یگانہ چنگیزی(پیدائش: 17 اکتوبر 1884ء – وفات: 4 فروری 1956ء) ہندوستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر تھے۔یگانہ چنگیزی کا اصل نام مرزا افضل علی بیگ المعروف واجد حسین تھا۔ پہلے یاسؔ تخلص کرتے تھے لیکن بعد میں یگانہ ؔہو گئے۔ ان کے اجداد ھزارستان غزنی سے ہندوستان آئے اور سلطنت مغلیہ کے دربار سے وابستہ ہو گئے۔ پرگنہ حویلی عظیم آباد میں جاگیریں ملیں اور وہیں سکونت پزیر ہوئے۔ اسکول کے زمانے سے انہوں نے شاعری کا آغا کیا اور بیتاب عظیم آباد ی سے کے شاگرد ہوئے۔ سنہ 1903ء میں کلکتہ یونیورسٹی سے انٹرنس کا امتحان پاس کیا اور اس کے بعد معاش کی جستجو میں مصروف ہو گئے، جس میں انہیں در در کی خاک چھاننی پڑی۔ چونکہ ان کی شادی لکھنؤ میں ہوئی تھی، اس لیے وہ لکھنؤ میں جا بسے لیکن وہاں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ اپنی شاعری میں یگانہ تھے۔ انہوں نے ہمیشہ وہ راہ ترک کر دی جو پہلے سے مستعمل تھی، اس لیے لکھنؤ اسکول میں آتش کے بعد یگانہ ہی سب سے منفرد شاعر ہیں، جن کی آواز سب سے الگ محسوس ہو تی ہے۔ یاس یگانہ کا کلام ان کے مختلف مجموعوں اور اس زمانے کے رسالوں میں بکھرا ہوا تھا۔ ان اوراقِ لخت لخت کو نام ور محقق مشفق خواجہ نے اکٹھا کر 2003ء میں کلیاتِ یگانہ شائع کی، جس نے یگانہ کی شاعرانہ شخصیت کی بازیافت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔یگانہؔ ایک کلاسیکی غزل گو شاعر تھے۔ حالانکہ انہوں نے قطعات و رباعیات بھی کہی ہیں لیکن ان کی اصل پہچان ان کی غزلیں ہی ہیں۔ انہوں نے غزل کے موضوعات کے دائرے کو ایک نئی جہت اور اونچائی عطا کی اور ایسے مضامین نظم کیے جو پہلی بار حقیقت پسندانہ کیفیت کے ساتھ غزل کے افق پر نمودار ہوئے۔ وہ خود اپنی ذاتی زندگی میں، جس طرح کے شیریں و تلخ تجربات سے گزرے تھے اور زندگی کے اتار چڑھاؤ کا جس طرح تجربہ کیا تھا، اس سے ان کے دل و دماغ نے جو تاثرات قبول کیے تھے، انہیں واقعات نے ان کی غزلوں کو اصلیت پسندی اور تابناکی بخشی۔ ان کی غزل گوئی ان کے مزاج کی آئینہ دار ہے۔ وہ ایک خود دار اور صاف گو انسان تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں بھی اس کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے ۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR