Skip to content
یگانہ چنگیزی یگانہ چنگیزی

شکوۂ‌ درد جگر اے مہرباں کیوں کر کریں

شکوۂ‌ درد جگر اے مہرباں کیوں کر کریں آپ سن کیوں کر سکیں اور ہم بیاں کیوں کر کریں اپنی بیتی پھر سنائیں گے کبھی اے مہرباں شب کی شب میں ختم ساری داستاں کیوں کر کریں سیکڑوں ہی فتنۂ خوابیدہ جاگ اٹھیں گے پھر نیند سے چونکا کے ان کو سرگراں کیوں کر کریں پھر گیا تلوار کا منہ تھم گئے بازوئے دوست کیوں اجل اس کی تلافی سخت جاں کیوں کر کریں آتی ہے پچھلے پہر بس دل دھڑکنے کی صدا راز داران وفا آہ و فغاں کیوں کر کریں پھاندنا دیوار جنت کا تو آساں ہے مگر آپ کے دل میں جگہ اے مہرباں کیوں کر کریں انقلاب دہر نے آنکھوں کو اندھا کر دیا آخر اب نظارۂ فصل خزاں کیوں کر کریں ناتوانی کا برا ہو آہ کر سکتے نہیں کیوں فلک اب جذب دل کا امتحاں کیوں کر کریں اس طلسم دہر میں سر بھی اٹھا سکتے نہیں کشمکش میں سیر نیرنگ جہاں کیوں کر کریں سر پٹکتے ہیں عبث نقش قدم پر دیر سے آبلہ پا جستجوئے کارواں کیوں کر کریں ہوش میں پھر کون تھا جب درد کا ساغر چلا آخر شب کی وہ کیفیت بیاں کیوں کر کریں ہاتھ پھیلایا نہ جائے گا بھری محفل میں آج صبر کی دولت کو ساقی رائیگاں کیوں کر کریں جھوم کر اٹھتے ہیں لیکن پھر سنبھل جاتے ہیں مست سامنا ساقی کا ہے گستاخیاں کیوں کر کریں پھاڑے کھاتی ہے ہمیں یہ ملگجی پوشاک میں جامۂ تن کی بتاؤ دھجیاں کیوں کر کریں
یگانہ چنگیزی

یگانہ چنگیزی

View profile

یاس یگانہ چنگیزی(پیدائش: 17 اکتوبر 1884ء – وفات: 4 فروری 1956ء) ہندوستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر تھے۔یگانہ چنگیزی کا اصل نام مرزا افضل علی بیگ المعروف واجد حسین تھا۔ پہلے یاسؔ تخلص کرتے تھے لیکن بعد میں یگانہ ؔہو گئے۔ ان کے اجداد ھزارستان غزنی سے ہندوستان آئے اور سلطنت مغلیہ کے دربار سے وابستہ ہو گئے۔ پرگنہ حویلی عظیم آباد میں جاگیریں ملیں اور وہیں سکونت پزیر ہوئے۔ اسکول کے زمانے سے انہوں نے شاعری کا آغا کیا اور بیتاب عظیم آباد ی سے کے شاگرد ہوئے۔ سنہ 1903ء میں کلکتہ یونیورسٹی سے انٹرنس کا امتحان پاس کیا اور اس کے بعد معاش کی جستجو میں مصروف ہو گئے، جس میں انہیں در در کی خاک چھاننی پڑی۔ چونکہ ان کی شادی لکھنؤ میں ہوئی تھی، اس لیے وہ لکھنؤ میں جا بسے لیکن وہاں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ اپنی شاعری میں یگانہ تھے۔ انہوں نے ہمیشہ وہ راہ ترک کر دی جو پہلے سے مستعمل تھی، اس لیے لکھنؤ اسکول میں آتش کے بعد یگانہ ہی سب سے منفرد شاعر ہیں، جن کی آواز سب سے الگ محسوس ہو تی ہے۔ یاس یگانہ کا کلام ان کے مختلف مجموعوں اور اس زمانے کے رسالوں میں بکھرا ہوا تھا۔ ان اوراقِ لخت لخت کو نام ور محقق مشفق خواجہ نے اکٹھا کر 2003ء میں کلیاتِ یگانہ شائع کی، جس نے یگانہ کی شاعرانہ شخصیت کی بازیافت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔یگانہؔ ایک کلاسیکی غزل گو شاعر تھے۔ حالانکہ انہوں نے قطعات و رباعیات بھی کہی ہیں لیکن ان کی اصل پہچان ان کی غزلیں ہی ہیں۔ انہوں نے غزل کے موضوعات کے دائرے کو ایک نئی جہت اور اونچائی عطا کی اور ایسے مضامین نظم کیے جو پہلی بار حقیقت پسندانہ کیفیت کے ساتھ غزل کے افق پر نمودار ہوئے۔ وہ خود اپنی ذاتی زندگی میں، جس طرح کے شیریں و تلخ تجربات سے گزرے تھے اور زندگی کے اتار چڑھاؤ کا جس طرح تجربہ کیا تھا، اس سے ان کے دل و دماغ نے جو تاثرات قبول کیے تھے، انہیں واقعات نے ان کی غزلوں کو اصلیت پسندی اور تابناکی بخشی۔ ان کی غزل گوئی ان کے مزاج کی آئینہ دار ہے۔ وہ ایک خود دار اور صاف گو انسان تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں بھی اس کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے ۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR