جہان غنچۂ دل کا فقط چٹکنا تھا

جہان غنچۂ دل کا فقط چٹکنا تھا اسی کی بوئے پریشاں وجود دنیا تھا یہ کہہ کے کل کوئی بے اختیار روتا تھا وہ اک نگاہ سہی کیوں کسی کو دیکھا تھا طنابیں کوچۂ قاتل کی کھنچتی جاتی تھیں شہید تیغ ادا میں بھی زور کتنا تھا بس اک جھلک نظر آئی اڑے کلیم کے ہوش بس اک نگاہ ہوئی خاک طور سینا تھا ہر اک کے ہاتھ فقط غفلتیں تھیں ہوش نما کہ اپنے آپ سے بیگانہ وار جینا تھا یہی ہوا کہ فریب امید و یاس مٹے وہ پا گئے ترے ہاتھوں ہمیں جو پانا تھا چمن میں غنچۂ گل کھلکھلا کے مرجھائے یہی وہ تھے جنہیں ہنس ہنس کے جان دینا تھا نگاہ مہر میں جس کی ہیں صد پیام فنا اسی کا عالم ایجاد و ناز بے جا تھا جہاں تو جلوہ نما تھا لرزتی تھی دنیا ترے جمال سے کیسا جلال پیدا تھا حیات و مرگ کے کچھ راز کھل گئے ہوں گے فسانۂ شب غم ورنہ دوستو کیا تھا شب عدم کا فسانہ گداز شمع حیات سوائے کیف فنا میرا ماجرا کیا تھا کچھ ایسی بات نہ تھی تیرا دور ہو جانا یہ اور بات کہ رہ رہ کے درد اٹھتا تھا نہ پوچھ سود و زیاں کاروبار الفت کے وگرنہ یوں تو نہ پانا تھا کچھ نہ کھوتا تھا لگاوٹیں وہ ترے حسن بے نیاز کی آہ میں تیری بزم سے جب ناامید اٹھا تھا تجھے ہم اے دل درد آشنا کہاں ڈھونڈیں ہم اپنے ہوش میں کب تھے کوئی جب اٹھا تھا عدم کا راز صدائے شکست ساز حیات حجاب زیست بھی کتنا لطیف پردا تھا یہ اضطراب و سکوں بھی تھی اک فریب حیات کہ اپنے حال سے بیگانہ وار جینا تھا کہاں پہ چوک ہوئی تیرے بے قراروں سے زمانہ دوسری کروٹ بدلنے والا تھا یہ کوئی یاد ہے یہ بھی ہے کوئی محویت ترے خیال میں تجھ کو بھی بھول جانا تھا کہاں کی چوٹ ابھر آئی حسن تاباں میں دم نظارہ وہ رخ درد سا چمکتا تھا نہ پوچھ رمز و کنایات چشم ساقی کے بس ایک حشر خموش انجمن میں برپا تھا چمن چمن تھی گل داغ عشق سے ہستی اسی کی نکہت برباد کا زمانہ تھا وہ تھا مرا دل خوں گشتہ جس کے مٹنے سے بہار باغ جناں تھی وجود دنیا تھا قسم ہے بادہ کشو چشم مست ساقی کی بتاؤ ہاتھ سے کیا جام مے سنبھلتا تھا وصال اس سے میں چاہوں کہاں یہ دل میرا یہ رو رہا ہوں کہ کیوں اس کو میں نے دیکھا تھا امید یاس بنی یاس پھر امید بنی اس اک نظر میں فریب نگاہ کتنا تھا یہ سوز و ساز نہاں تھا وہ سوز و ساز عیاں وصال و ہجر میں بس فرق تھا تو اتنا تھا شکست ساز چمن تھی بہار لالہ و گل خزاں مچلتی تھی غنچہ جہاں چٹکتا تھا ہر ایک سانس ہے تجدید یاد ایامے گزر گیا وہ زمانہ جسے گزرنا تھا نہ کوئی وعدہ نہ کوئی یقیں نہ کوئی امید مگر ہمیں تو ترا انتظار کرنا تھا کسی کے صبر نے بے صبر کر دیا سب کو فراقؔ نزع میں کروٹ کوئی بدلتا تھا
فراق گورکھپوری
فراق گورکھپوری

فراق گورکھپوری (پیدائش: 28 اگست 1896ء– وفات: 3 مارچ 1982ء) مصنف، ادیب، نقاد اور شاعر تھے۔ اُن کا شمار بیسویں صدی کے اردو زبان کے صفِ اول کے شعرا میں ہوتا تھا۔ ان کا اصل نام رگھو پتی سہائے تھا۔جدید شاعری میں فراق کا مقام بہت بلند ہے۔ آج کی شاعری پر فراق کے اثر کو باآسانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ بہترین شخصیت کے مالک تھے۔ حاضر جوابی میں ان کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ بین الاقوامی ادب سے بھی شغف رہا۔ تنقید میں رومانی تنقید کی ابتدا فراق سے ہوئی۔ ان کے معاصرین میں شاعر مشرق علامہ اقبال، فیض احمد فیض، کیفی اعظمی، یگانہ یاس چنگیزی، جوش ملیح آبادی، جگر مرادآبادی اور ساحر لدھیانوی جیسے شاعر ہیں۔ اتنی عظیم ہستیوں کی موجودگی کے باوجود انہوں نے ابتدائے عمر میں ہی اپنی شاعری کا لوہا منوالیا۔فراق پی سی یس اور آئی سی یس (انڈین سول سروس) کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ لیکن گاندھی جی کی تحریک عدم تعاون کی مخالفت میں استعفی دے دیا۔ جس کی پاداش میں انھیں جیل جانا پڑا۔ اس کے بعد وہ جامعہ الٰہ آباد میں انگریزی زبان کے لکچرر مقرر ہوئے۔ یہیں سے وہ دنیائے شعر و ادب کے آسمان پر سورج بن کر چمکے اور ناچاہتے ہوئے بھی معاصرین کو ماننا پڑا کہ بلا شبہ فراق اور دیگر شعرا کی شاعری میں فرق تو ضرور ہے۔ ان میں ایک انفرادیت تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو بطور شاعر منوا پائے۔ ان کی شہر آفاق کتاب گل نغمہ بھی اسی دوران منظر عام پر آئی۔ جس کو ہندوستان کا اعلیٰ معیار ادب گیان پیٹھ انعام بھی ملا۔ اور وہ آل انڈیا ریڈیو کے پروڈیوسر بھی رہے۔فراق کا انتقال طویل علالت کے بعد 3 مارچ 1982ء کو 85 سال کی عمر میں نئی دہلی میں ہوا۔

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR