بستیاں ڈھونڈھ رہی ہیں انہیں ویرانوں میں

بستیاں ڈھونڈھ رہی ہیں انہیں ویرانوں میں وحشتیں بڑھ گئیں حد سے ترے دیوانوں میں نگۂ ناز نہ دیوانوں نہ فرزانوں میں جان کار ایک وہی ہے مگر انجانوں میں بزم مے بے خود و بے تاب نہ کیوں ہو ساقی موج بادہ ہے کہ درد اٹھتا ہے پیمانوں میں میں تو میں چونک اٹھی ہے یہ فضائے خاموش یہ صدا کب کی سنی آتی ہے پھر کانوں میں سیر کر اجڑے دلوں کی جو طبیعت ہے اداس جی بہل جاتے ہیں اکثر انہیں ویرانوں میں وسعتیں بھی ہیں نہاں تنگئ دل میں غافل جی بہل جاتے ہیں اکثر انہیں میدانوں میں جان ایمان جنوں سلسلہ جنبان جنوں کچھ کشش ہائے نہاں جذب ہیں ویرانوں میں خندۂ صبح ازل تیرگیٔ شام ابد دونوں عالم ہیں چھلکتے ہوئے پیمانوں میں دیکھ جب عالم ہو کو تو نیا عالم ہے بستیاں بھی نظر آنے لگیں ویرانوں میں جس جگہ بیٹھ گئے آگ لگا کر اٹھے گرمیاں ہیں کچھ ابھی سوختہ سامانوں میں وحشتیں بھی نظر آتی ہیں سر پردۂ ناز دامنوں میں ہے یہ عالم نہ گریبانوں میں ایک رنگینیٔ ظاہر ہے گلستاں میں اگر ایک شادابیٔ پنہاں ہے بیابانوں میں جوہر غنچہ و گل میں ہے اک انداز جنوں کچھ بیاباں نظر آئے ہیں گریبانوں میں اب وہ رنگ چمن و خندۂ گل بھی نہ رہے اب وہ آثار جنوں بھی نہیں دیوانوں میں اب وہ ساقی کی بھی آنکھیں نہ رہیں رندوں میں اب وہ ساغر بھی چھلکتے نہیں مے خانوں میں اب وہ اک سوز نہانی بھی دلوں میں نہ رہا اب وہ جلوے بھی نہیں عشق کے کاشانوں میں اب نہ وہ رات جب امیدیں بھی کچھ تھیں تجھ سے اب نہ وہ بات غم ہجر کے افسانوں میں اب ترا کام ہے بس اہل وفا کا پانا اب ترا نام ہے بس عشق کے غم خانوں میں تا بہ کے وعدۂ موہوم کی تفصیل فراقؔ شب فرقت کہیں کٹتی ہے ان افسانوں میں
فراق گورکھپوری
فراق گورکھپوری

فراق گورکھپوری (پیدائش: 28 اگست 1896ء– وفات: 3 مارچ 1982ء) مصنف، ادیب، نقاد اور شاعر تھے۔ اُن کا شمار بیسویں صدی کے اردو زبان کے صفِ اول کے شعرا میں ہوتا تھا۔ ان کا اصل نام رگھو پتی سہائے تھا۔جدید شاعری میں فراق کا مقام بہت بلند ہے۔ آج کی شاعری پر فراق کے اثر کو باآسانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ بہترین شخصیت کے مالک تھے۔ حاضر جوابی میں ان کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ بین الاقوامی ادب سے بھی شغف رہا۔ تنقید میں رومانی تنقید کی ابتدا فراق سے ہوئی۔ ان کے معاصرین میں شاعر مشرق علامہ اقبال، فیض احمد فیض، کیفی اعظمی، یگانہ یاس چنگیزی، جوش ملیح آبادی، جگر مرادآبادی اور ساحر لدھیانوی جیسے شاعر ہیں۔ اتنی عظیم ہستیوں کی موجودگی کے باوجود انہوں نے ابتدائے عمر میں ہی اپنی شاعری کا لوہا منوالیا۔فراق پی سی یس اور آئی سی یس (انڈین سول سروس) کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ لیکن گاندھی جی کی تحریک عدم تعاون کی مخالفت میں استعفی دے دیا۔ جس کی پاداش میں انھیں جیل جانا پڑا۔ اس کے بعد وہ جامعہ الٰہ آباد میں انگریزی زبان کے لکچرر مقرر ہوئے۔ یہیں سے وہ دنیائے شعر و ادب کے آسمان پر سورج بن کر چمکے اور ناچاہتے ہوئے بھی معاصرین کو ماننا پڑا کہ بلا شبہ فراق اور دیگر شعرا کی شاعری میں فرق تو ضرور ہے۔ ان میں ایک انفرادیت تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو بطور شاعر منوا پائے۔ ان کی شہر آفاق کتاب گل نغمہ بھی اسی دوران منظر عام پر آئی۔ جس کو ہندوستان کا اعلیٰ معیار ادب گیان پیٹھ انعام بھی ملا۔ اور وہ آل انڈیا ریڈیو کے پروڈیوسر بھی رہے۔فراق کا انتقال طویل علالت کے بعد 3 مارچ 1982ء کو 85 سال کی عمر میں نئی دہلی میں ہوا۔

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR