زندگی درد کی کہانی ہے

زندگی درد کی کہانی ہے چشم انجم میں بھی تو پانی ہے بے نیازانہ سن لیا غم دل مہربانی ہے مہربانی ہے وہ بھلا میری بات کیا مانے اس نے اپنی بھی بات مانی ہے شعلۂ دل ہے یہ کہ شعلہ ساز یا ترا شعلۂ جوانی ہے وہ کبھی رنگ وہ کبھی خوشبو گاہ گل گاہ رات رانی ہے بن کے معصوم سب کو تاڑ گئی آنکھ اس کی بڑی سیانی ہے آپ بیتی کہو کہ جگ بیتی ہر کہانی مری کہانی ہے دونوں عالم ہیں جس کے زیر نگیں دل اسی غم کی راجدھانی ہے ہم تو خوش ہیں تری جفا پر بھی بے سبب تیری سرگرانی ہے سر بہ سر یہ فراز‌ مہر و قمر تیری اٹھتی ہوئی جوانی ہے آج بھی سن رہے ہیں قصۂ عشق گو کہانی بہت پرانی ہے ضبط کیجے تو دل ہے انگارا اور اگر روئیے تو پانی ہے ہے ٹھکانا یہ در ہی اس کا بھی دل بھی تیرا ہی آستانی ہے ان سے ایسے میں جو نہ ہو جائے نو جوانی ہے نو جوانی ہے دل مرا اور یہ غم دنیا کیا ترے غم کی پاسبانی ہے گردش چشم ساقیٔ دوراں دور افلاک کی بھی پانی ہے اے لب ناز کیا ہیں وہ اسرار خامشی جن کی ترجمانی ہے مے کدوں کے بھی ہوش اڑنے لگے کیا تری آنکھ کی جوانی ہے خودکشی پر ہے آج آمادہ ارے دنیا بڑی دوانی ہے کوئی اظہار ناخوشی بھی نہیں بد گمانی سی بد گمانی ہے مجھ سے کہتا تھا کل فرشتۂ عشق زندگی ہجر کی کہانی ہے بحر ہستی بھی جس میں کھو جائے بوند میں بھی وہ بیکرانی ہے مل گئے خاک میں ترے عشاق یہ بھی اک امر آسمانی ہے زندگی انتظار ہے تیرا ہم نے اک بات آج جانی ہے کیوں نہ ہو غم سے ہی قماش اس کا حسن تصویر شادمانی ہے سونی دنیا میں اب تو میں ہوں اور ماتم عشق آنجہانی ہے کچھ نہ پوچھو فراقؔ عہد شباب رات ہے نیند ہے کہانی ہے
فراق گورکھپوری
فراق گورکھپوری

فراق گورکھپوری (پیدائش: 28 اگست 1896ء– وفات: 3 مارچ 1982ء) مصنف، ادیب، نقاد اور شاعر تھے۔ اُن کا شمار بیسویں صدی کے اردو زبان کے صفِ اول کے شعرا میں ہوتا تھا۔ ان کا اصل نام رگھو پتی سہائے تھا۔جدید شاعری میں فراق کا مقام بہت بلند ہے۔ آج کی شاعری پر فراق کے اثر کو باآسانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ بہترین شخصیت کے مالک تھے۔ حاضر جوابی میں ان کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ بین الاقوامی ادب سے بھی شغف رہا۔ تنقید میں رومانی تنقید کی ابتدا فراق سے ہوئی۔ ان کے معاصرین میں شاعر مشرق علامہ اقبال، فیض احمد فیض، کیفی اعظمی، یگانہ یاس چنگیزی، جوش ملیح آبادی، جگر مرادآبادی اور ساحر لدھیانوی جیسے شاعر ہیں۔ اتنی عظیم ہستیوں کی موجودگی کے باوجود انہوں نے ابتدائے عمر میں ہی اپنی شاعری کا لوہا منوالیا۔فراق پی سی یس اور آئی سی یس (انڈین سول سروس) کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ لیکن گاندھی جی کی تحریک عدم تعاون کی مخالفت میں استعفی دے دیا۔ جس کی پاداش میں انھیں جیل جانا پڑا۔ اس کے بعد وہ جامعہ الٰہ آباد میں انگریزی زبان کے لکچرر مقرر ہوئے۔ یہیں سے وہ دنیائے شعر و ادب کے آسمان پر سورج بن کر چمکے اور ناچاہتے ہوئے بھی معاصرین کو ماننا پڑا کہ بلا شبہ فراق اور دیگر شعرا کی شاعری میں فرق تو ضرور ہے۔ ان میں ایک انفرادیت تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو بطور شاعر منوا پائے۔ ان کی شہر آفاق کتاب گل نغمہ بھی اسی دوران منظر عام پر آئی۔ جس کو ہندوستان کا اعلیٰ معیار ادب گیان پیٹھ انعام بھی ملا۔ اور وہ آل انڈیا ریڈیو کے پروڈیوسر بھی رہے۔فراق کا انتقال طویل علالت کے بعد 3 مارچ 1982ء کو 85 سال کی عمر میں نئی دہلی میں ہوا۔

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR