رات بھی نیند بھی کہانی بھی

رات بھی نیند بھی کہانی بھی ہائے کیا چیز ہے جوانی بھی ایک پیغام زندگانی بھی عاشقی مرگ ناگہانی بھی اس ادا کا تری جواب نہیں مہربانی بھی سرگرانی بھی دل کو اپنے بھی غم تھے دنیا میں کچھ بلائیں تھیں آسمانی بھی منصب دل خوشی لٹانا ہے غم پنہاں کی پاسبانی بھی دل کو شعلوں سے کرتی ہے سیراب زندگی آگ بھی ہے پانی بھی شاد کاموں کو یہ نہیں توفیق دل غمگیں کی شادمانی بھی لاکھ حسن یقیں سے بڑھ کر ہے ان نگاہوں کی بد گمانی بھی تنگنائے دل ملول میں ہے بحر ہستی کی بے کرانی بھی عشق ناکام کی ہے پرچھائیں شادمانی بھی کامرانی بھی دیکھ دل کے نگار خانے میں زخم پنہاں کی ہے نشانی بھی خلق کیا کیا مجھے نہیں کہتی کچھ سنوں میں تری زبانی بھی آئے تاریخ عشق میں سو بار موت کے دور درمیانی بھی اپنی معصومیت کے پردے میں ہو گئی وہ نظر سیانی بھی دن کو سورج مکھی ہے وہ نو گل رات کو ہے وہ رات رانی بھی دل بد نام تیرے بارے میں لوگ کہتے ہیں اک کہانی بھی وضع کرتے کوئی نئی دنیا کہ یہ دنیا ہوئی پرانی بھی دل کو آداب بندگی بھی نہ آئے کر گئے لوگ حکمرانی بھی جور کم کم کا شکریہ بس ہے آپ کی اتنی مہربانی بھی دل میں اک ہوک بھی اٹھی اے دوست یاد آئی تری جوانی بھی سر سے پا تک سپردگی کی ادا ایک انداز ترکمانی بھی پاس رہنا کسی کا رات کی رات میہمانی بھی میزبانی بھی ہو نہ عکس جبین ناز کہ ہے دل میں اک نور کہکشانی بھی زندگی عین دید یار فراقؔ زندگی ہجر کی کہانی بھی
فراق گورکھپوری
فراق گورکھپوری

فراق گورکھپوری (پیدائش: 28 اگست 1896ء– وفات: 3 مارچ 1982ء) مصنف، ادیب، نقاد اور شاعر تھے۔ اُن کا شمار بیسویں صدی کے اردو زبان کے صفِ اول کے شعرا میں ہوتا تھا۔ ان کا اصل نام رگھو پتی سہائے تھا۔جدید شاعری میں فراق کا مقام بہت بلند ہے۔ آج کی شاعری پر فراق کے اثر کو باآسانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ بہترین شخصیت کے مالک تھے۔ حاضر جوابی میں ان کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ بین الاقوامی ادب سے بھی شغف رہا۔ تنقید میں رومانی تنقید کی ابتدا فراق سے ہوئی۔ ان کے معاصرین میں شاعر مشرق علامہ اقبال، فیض احمد فیض، کیفی اعظمی، یگانہ یاس چنگیزی، جوش ملیح آبادی، جگر مرادآبادی اور ساحر لدھیانوی جیسے شاعر ہیں۔ اتنی عظیم ہستیوں کی موجودگی کے باوجود انہوں نے ابتدائے عمر میں ہی اپنی شاعری کا لوہا منوالیا۔فراق پی سی یس اور آئی سی یس (انڈین سول سروس) کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ لیکن گاندھی جی کی تحریک عدم تعاون کی مخالفت میں استعفی دے دیا۔ جس کی پاداش میں انھیں جیل جانا پڑا۔ اس کے بعد وہ جامعہ الٰہ آباد میں انگریزی زبان کے لکچرر مقرر ہوئے۔ یہیں سے وہ دنیائے شعر و ادب کے آسمان پر سورج بن کر چمکے اور ناچاہتے ہوئے بھی معاصرین کو ماننا پڑا کہ بلا شبہ فراق اور دیگر شعرا کی شاعری میں فرق تو ضرور ہے۔ ان میں ایک انفرادیت تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو بطور شاعر منوا پائے۔ ان کی شہر آفاق کتاب گل نغمہ بھی اسی دوران منظر عام پر آئی۔ جس کو ہندوستان کا اعلیٰ معیار ادب گیان پیٹھ انعام بھی ملا۔ اور وہ آل انڈیا ریڈیو کے پروڈیوسر بھی رہے۔فراق کا انتقال طویل علالت کے بعد 3 مارچ 1982ء کو 85 سال کی عمر میں نئی دہلی میں ہوا۔

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR