Skip to content
فراق گورکھپوری فراق گورکھپوری

آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہے

آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہے اک شرح حیات ہو گئی ہے جب دل کی وفات ہو گئی ہے ہر چیز کی رات ہو گئی ہے غم سے چھٹ کر یہ غم ہے مجھ کو کیوں غم سے نجات ہو گئی ہے مدت سے خبر ملی نہ دل کی شاید کوئی بات ہو گئی ہے جس شے پہ نظر پڑی ہے تیری تصویر حیات ہو گئی ہے اب ہو مجھے دیکھیے کہاں صبح ان زلفوں میں رات ہو گئی ہے دل میں تجھ سے تھی جو شکایت اب غم کے نکات ہو گئی ہے اقرار گناہ عشق سن لو مجھ سے اک بات ہو گئی ہے جو چیز بھی مجھ کو ہاتھ آئی تیری سوغات ہو گئی ہے کیا جانیے موت پہلے کیا تھی اب میری حیات ہو گئی ہے گھٹتے گھٹتے تری عنایت میری اوقات ہو گئی ہے اس چشم سیہ کی یاد یکسر شام ظلمات ہو گئی ہے اس دور میں زندگی بشر کی بیمار کی رات ہو گئی ہے جیتی ہوئی بازیٔ محبت کھیلا ہوں تو مات ہو گئی ہے مٹنے لگیں زندگی کی قدریں جب غم سے نجات ہو گئی ہے وہ چاہیں تو وقت بھی بدل جائے جب آئے ہیں رات ہو گئی ہے دنیا ہے کتنی بے ٹھکانہ عاشق کی برات ہو گئی ہے پہلے وہ نگاہ اک کرن تھی اب برق صفات ہو گئی ہے جس چیز کو چھو دیا ہے تو نے اک برگ نبات ہو گئی ہے اکا دکا صدائے زنجیر زنداں میں رات ہو گئی ہے ایک ایک صفت فراقؔ اس کی دیکھا ہے تو ذات ہو گئی ہے
فراق گورکھپوری

فراق گورکھپوری

View profile

فراق گورکھپوری (پیدائش: 28 اگست 1896ء– وفات: 3 مارچ 1982ء) مصنف، ادیب، نقاد اور شاعر تھے۔ اُن کا شمار بیسویں صدی کے اردو زبان کے صفِ اول کے شعرا میں ہوتا تھا۔ ان کا اصل نام رگھو پتی سہائے تھا۔جدید شاعری میں فراق کا مقام بہت بلند ہے۔ آج کی شاعری پر فراق کے اثر کو باآسانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ بہترین شخصیت کے مالک تھے۔ حاضر جوابی میں ان کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ بین الاقوامی ادب سے بھی شغف رہا۔ تنقید میں رومانی تنقید کی ابتدا فراق سے ہوئی۔ ان کے معاصرین میں شاعر مشرق علامہ اقبال، فیض احمد فیض، کیفی اعظمی، یگانہ یاس چنگیزی، جوش ملیح آبادی، جگر مرادآبادی اور ساحر لدھیانوی جیسے شاعر ہیں۔ اتنی عظیم ہستیوں کی موجودگی کے باوجود انہوں نے ابتدائے عمر میں ہی اپنی شاعری کا لوہا منوالیا۔فراق پی سی یس اور آئی سی یس (انڈین سول سروس) کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ لیکن گاندھی جی کی تحریک عدم تعاون کی مخالفت میں استعفی دے دیا۔ جس کی پاداش میں انھیں جیل جانا پڑا۔ اس کے بعد وہ جامعہ الٰہ آباد میں انگریزی زبان کے لکچرر مقرر ہوئے۔ یہیں سے وہ دنیائے شعر و ادب کے آسمان پر سورج بن کر چمکے اور ناچاہتے ہوئے بھی معاصرین کو ماننا پڑا کہ بلا شبہ فراق اور دیگر شعرا کی شاعری میں فرق تو ضرور ہے۔ ان میں ایک انفرادیت تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو بطور شاعر منوا پائے۔ ان کی شہر آفاق کتاب گل نغمہ بھی اسی دوران منظر عام پر آئی۔ جس کو ہندوستان کا اعلیٰ معیار ادب گیان پیٹھ انعام بھی ملا۔ اور وہ آل انڈیا ریڈیو کے پروڈیوسر بھی رہے۔فراق کا انتقال طویل علالت کے بعد 3 مارچ 1982ء کو 85 سال کی عمر میں نئی دہلی میں ہوا۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR