کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی

کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی یہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھی ہزار بار زمانہ ادھر سے گزرا ہے نئی نئی سی ہے کچھ تیری رہ گزر پھر بھی کہوں یہ کیسے ادھر دیکھ یا نہ دیکھ ادھر کہ درد درد ہے پھر بھی نظر نظر پھر بھی خوشا اشارۂ پیہم زہے سکوت نظر دراز ہو کے فسانہ ہے مختصر پھر بھی جھپک رہی ہیں زمان و مکاں کی بھی آنکھیں مگر ہے قافلہ آمادۂ سفر پھر بھی شب فراق سے آگے ہے آج میری نظر کہ کٹ ہی جائے گی یہ شام بے سحر پھر بھی کہیں یہی تو نہیں کاشف حیات و ممات یہ حسن و عشق بظاہر ہیں بے خبر پھر بھی پلٹ رہے ہیں غریب الوطن پلٹنا تھا وہ کوچہ روکش جنت ہو گھر ہے گھر پھر بھی لٹا ہوا چمن عشق ہے نگاہوں کو دکھا گیا وہی کیا کیا گل و ثمر پھر بھی خراب ہو کے بھی سوچا کیے ترے مہجور یہی کہ تیری نظر ہے تری نظر پھر بھی ہو بے نیاز اثر بھی کبھی تری مٹی وہ کیمیا ہی سہی رہ گئی کسر پھر بھی لپٹ گیا ترا دیوانہ گرچہ منزل سے اڑی اڑی سی ہے یہ خاک رہ گزر پھر بھی تری نگاہ سے بچنے میں عمر گزری ہے اتر گیا رگ جاں میں یہ نیشتر پھر بھی غم فراق کے کشتوں کا حشر کیا ہوگا یہ شام ہجر تو ہو جائے گی سحر پھر بھی فنا بھی ہو کے گراں باریٔ حیات نہ پوچھ اٹھائے اٹھ نہیں سکتا یہ درد سر پھر بھی ستم کے رنگ ہیں ہر التفات پنہاں میں کرم نما ہیں ترے جور سر بسر پھر بھی خطا معاف ترا عفو بھی ہے مثل سزا تری سزا میں ہے اک شان در گزر پھر بھی اگرچہ بے خودیٔ عشق کو زمانہ ہوا فراقؔ کرتی رہی کام وہ نظر پھر بھی
فراق گورکھپوری
فراق گورکھپوری

فراق گورکھپوری (پیدائش: 28 اگست 1896ء– وفات: 3 مارچ 1982ء) مصنف، ادیب، نقاد اور شاعر تھے۔ اُن کا شمار بیسویں صدی کے اردو زبان کے صفِ اول کے شعرا میں ہوتا تھا۔ ان کا اصل نام رگھو پتی سہائے تھا۔جدید شاعری میں فراق کا مقام بہت بلند ہے۔ آج کی شاعری پر فراق کے اثر کو باآسانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ بہترین شخصیت کے مالک تھے۔ حاضر جوابی میں ان کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ بین الاقوامی ادب سے بھی شغف رہا۔ تنقید میں رومانی تنقید کی ابتدا فراق سے ہوئی۔ ان کے معاصرین میں شاعر مشرق علامہ اقبال، فیض احمد فیض، کیفی اعظمی، یگانہ یاس چنگیزی، جوش ملیح آبادی، جگر مرادآبادی اور ساحر لدھیانوی جیسے شاعر ہیں۔ اتنی عظیم ہستیوں کی موجودگی کے باوجود انہوں نے ابتدائے عمر میں ہی اپنی شاعری کا لوہا منوالیا۔فراق پی سی یس اور آئی سی یس (انڈین سول سروس) کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ لیکن گاندھی جی کی تحریک عدم تعاون کی مخالفت میں استعفی دے دیا۔ جس کی پاداش میں انھیں جیل جانا پڑا۔ اس کے بعد وہ جامعہ الٰہ آباد میں انگریزی زبان کے لکچرر مقرر ہوئے۔ یہیں سے وہ دنیائے شعر و ادب کے آسمان پر سورج بن کر چمکے اور ناچاہتے ہوئے بھی معاصرین کو ماننا پڑا کہ بلا شبہ فراق اور دیگر شعرا کی شاعری میں فرق تو ضرور ہے۔ ان میں ایک انفرادیت تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو بطور شاعر منوا پائے۔ ان کی شہر آفاق کتاب گل نغمہ بھی اسی دوران منظر عام پر آئی۔ جس کو ہندوستان کا اعلیٰ معیار ادب گیان پیٹھ انعام بھی ملا۔ اور وہ آل انڈیا ریڈیو کے پروڈیوسر بھی رہے۔فراق کا انتقال طویل علالت کے بعد 3 مارچ 1982ء کو 85 سال کی عمر میں نئی دہلی میں ہوا۔

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR