سمجھتا ہوں کہ تو مجھ سے جدا ہے

سمجھتا ہوں کہ تو مجھ سے جدا ہے شب فرقت مجھے کیا ہو گیا ہے ترا غم کیا ہے بس یہ جانتا ہوں کہ میری زندگی مجھ سے خفا ہے کبھی خوش کر گئی مجھ کو تری یاد کبھی آنکھوں میں آنسو آ گیا ہے حجابوں کو سمجھ بیٹھا میں جلوہ نگاہوں کو بڑا دھوکا ہوا ہے بہت دور اب ہے دل سے یاد تیری محبت کا زمانہ آ رہا ہے نہ جی خوش کر سکا تیرا کرم بھی محبت کو بڑا دھوکا رہا ہے کبھی تڑپا گیا ہے دل ترا غم کبھی دل کو سہارا دے گیا ہے شکایت تیری دل سے کرتے کرتے اچانک پیار تجھ پر آ گیا ہے جسے چونکا کے تو نے پھیر لی آنکھ وہ تیرا درد اب تک جاگتا ہے جہاں ہے موجزن رنگینئ حسن وہیں دل کا کنول لہرا رہا ہے گلابی ہوتی جاتی ہیں فضائیں کوئی اس رنگ سے شرما رہا ہے محبت تجھ سے تھی قبل از محبت کچھ ایسا یاد مجھ کو آ رہا ہے جدا آغاز سے انجام سے دور محبت اک مسلسل ماجرا ہے خدا حافظ مگر اب زندگی میں فقط اپنا سہارا رہ گیا ہے محبت میں فراقؔ اتنا نہ غم کر زمانے میں یہی ہوتا رہا ہے
فراق گورکھپوری
فراق گورکھپوری

فراق گورکھپوری (پیدائش: 28 اگست 1896ء– وفات: 3 مارچ 1982ء) مصنف، ادیب، نقاد اور شاعر تھے۔ اُن کا شمار بیسویں صدی کے اردو زبان کے صفِ اول کے شعرا میں ہوتا تھا۔ ان کا اصل نام رگھو پتی سہائے تھا۔جدید شاعری میں فراق کا مقام بہت بلند ہے۔ آج کی شاعری پر فراق کے اثر کو باآسانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ بہترین شخصیت کے مالک تھے۔ حاضر جوابی میں ان کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ بین الاقوامی ادب سے بھی شغف رہا۔ تنقید میں رومانی تنقید کی ابتدا فراق سے ہوئی۔ ان کے معاصرین میں شاعر مشرق علامہ اقبال، فیض احمد فیض، کیفی اعظمی، یگانہ یاس چنگیزی، جوش ملیح آبادی، جگر مرادآبادی اور ساحر لدھیانوی جیسے شاعر ہیں۔ اتنی عظیم ہستیوں کی موجودگی کے باوجود انہوں نے ابتدائے عمر میں ہی اپنی شاعری کا لوہا منوالیا۔فراق پی سی یس اور آئی سی یس (انڈین سول سروس) کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ لیکن گاندھی جی کی تحریک عدم تعاون کی مخالفت میں استعفی دے دیا۔ جس کی پاداش میں انھیں جیل جانا پڑا۔ اس کے بعد وہ جامعہ الٰہ آباد میں انگریزی زبان کے لکچرر مقرر ہوئے۔ یہیں سے وہ دنیائے شعر و ادب کے آسمان پر سورج بن کر چمکے اور ناچاہتے ہوئے بھی معاصرین کو ماننا پڑا کہ بلا شبہ فراق اور دیگر شعرا کی شاعری میں فرق تو ضرور ہے۔ ان میں ایک انفرادیت تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو بطور شاعر منوا پائے۔ ان کی شہر آفاق کتاب گل نغمہ بھی اسی دوران منظر عام پر آئی۔ جس کو ہندوستان کا اعلیٰ معیار ادب گیان پیٹھ انعام بھی ملا۔ اور وہ آل انڈیا ریڈیو کے پروڈیوسر بھی رہے۔فراق کا انتقال طویل علالت کے بعد 3 مارچ 1982ء کو 85 سال کی عمر میں نئی دہلی میں ہوا۔

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR