کوئی پیغام محبت لب اعجاز تو دے

کوئی پیغام محبت لب اعجاز تو دے موت کی آنکھ بھی کھل جائے گی آواز تو دے مقصد عشق ہم آہنگیٔ جزو و کل ہے درد ہی درد سہی دل بوئے دم ساز تو دے چشم مخمور کے عنوان نظر کچھ تو کھلیں دل رنجور دھڑکنے کا کچھ انداز تو دے اک ذرا ہو نشۂ حسن میں انداز خمار اک جھلک عشق کے انجام کی آغاز تو دے جو چھپائے نہ چھپے اور بتائے نہ بنے دل عاشق کو ان آنکھوں سے کوئی راز تو دے منتظر اتنی کبھی تھی نہ فضائے آفاق چھیڑنے ہی کو ہوں پر درد غزل ساز تو دے ہم اسیران قفس آگ لگا سکتے ہیں فرصت نغمہ کبھی حسرت پرواز تو دے عشق اک بار مشیت کو بدل سکتا ہے عندیہ اپنا مگر کچھ نگہ ناز تو دے قرب و دیدار تو معلوم کسی کا پھر بھی کچھ پتہ سا فلک تفرقہ پرداز تو دے منزلیں گرد کی مانند اڑی جاتی ہیں ابلق دہر کچھ انداز تگ و تاز تو دے کان سے ہم تو فراقؔ آنکھ کا لیتے ہیں کام آج چھپ کر کوئی آواز پر آواز تو دے
فراق گورکھپوری
فراق گورکھپوری

فراق گورکھپوری (پیدائش: 28 اگست 1896ء– وفات: 3 مارچ 1982ء) مصنف، ادیب، نقاد اور شاعر تھے۔ اُن کا شمار بیسویں صدی کے اردو زبان کے صفِ اول کے شعرا میں ہوتا تھا۔ ان کا اصل نام رگھو پتی سہائے تھا۔جدید شاعری میں فراق کا مقام بہت بلند ہے۔ آج کی شاعری پر فراق کے اثر کو باآسانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ بہترین شخصیت کے مالک تھے۔ حاضر جوابی میں ان کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ بین الاقوامی ادب سے بھی شغف رہا۔ تنقید میں رومانی تنقید کی ابتدا فراق سے ہوئی۔ ان کے معاصرین میں شاعر مشرق علامہ اقبال، فیض احمد فیض، کیفی اعظمی، یگانہ یاس چنگیزی، جوش ملیح آبادی، جگر مرادآبادی اور ساحر لدھیانوی جیسے شاعر ہیں۔ اتنی عظیم ہستیوں کی موجودگی کے باوجود انہوں نے ابتدائے عمر میں ہی اپنی شاعری کا لوہا منوالیا۔فراق پی سی یس اور آئی سی یس (انڈین سول سروس) کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ لیکن گاندھی جی کی تحریک عدم تعاون کی مخالفت میں استعفی دے دیا۔ جس کی پاداش میں انھیں جیل جانا پڑا۔ اس کے بعد وہ جامعہ الٰہ آباد میں انگریزی زبان کے لکچرر مقرر ہوئے۔ یہیں سے وہ دنیائے شعر و ادب کے آسمان پر سورج بن کر چمکے اور ناچاہتے ہوئے بھی معاصرین کو ماننا پڑا کہ بلا شبہ فراق اور دیگر شعرا کی شاعری میں فرق تو ضرور ہے۔ ان میں ایک انفرادیت تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو بطور شاعر منوا پائے۔ ان کی شہر آفاق کتاب گل نغمہ بھی اسی دوران منظر عام پر آئی۔ جس کو ہندوستان کا اعلیٰ معیار ادب گیان پیٹھ انعام بھی ملا۔ اور وہ آل انڈیا ریڈیو کے پروڈیوسر بھی رہے۔فراق کا انتقال طویل علالت کے بعد 3 مارچ 1982ء کو 85 سال کی عمر میں نئی دہلی میں ہوا۔

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR