اک روز ہوئے تھے کچھ اشارات خفی سے

اک روز ہوئے تھے کچھ اشارات خفی سے عاشق ہیں ہم اس نرگس رعنا کے جبھی سے کرنے کو ہیں دور آج تو تو یہ روگ ہی جی سے اب رکھیں گے ہم پیار نہ تم سے نہ کسی سے احباب سے رکھتا ہوں کچھ امید شرافت رہتے ہیں خفا مجھ سے بہت لوگ اسی سے کہتا ہوں اسے میں تو خصوصیت پنہاں کچھ تم کو شکایت ہے کسی سے تو مجھی سے اشعار نہیں ہیں یہ مری روح کی ہے پیاس جاری ہوئے سرچشمے مری تشنہ لبی سے آنسو کو مرے کھیل تماشا نہ سمجھنا کٹ جاتا ہے پتھر اسی ہیرے کی کنی سے یاد لب جاناں ہے چراغ دل رنجور روشن ہے یہ گھر آج اسی لعل یمنی سے افلاک کی محراب ہے آئی ہوئی انگڑائی بے کیف کچھ آفاق کی اعضا شکنی سے کچھ زیر لب الفاظ کھنکتے ہیں فضا میں گونجی ہوئی ہے بزم تری کم سخنی سے آج انجمن عشق نہیں انجمن عشق کس درجہ کمی بزم میں ہے تیری کمی سے اس وادئ ویراں میں ہے سر چشمۂ دل بھی ہستی مری سیراب ہے آنکھوں کی نمی سے خود مجھ کو بھی تا دیر خبر ہو نہیں پائی آج آئی تری یاد اس آہستہ روی سے وہ ڈھونڈھنے نکلی ہے تری نکہت گیسو اک روز ملا تھا میں نسیم سحری سے سب کچھ وہ دلا دے مجھے سب کچھ وہ بنا دے اے دوست نہیں دور تری کم نگہی سے میعاد دوام و ابد اک نیند ہے اس کی ہم منتہیٔ جلوۂ جاناں ہیں ابھی سے اک دل کے سوا پاس ہمارے نہیں کچھ بھی جو کام ہو لے لیتے ہیں ہم لوگ اسی سے معلوم ہوا اور ہے اک عالم اسرار آئینۂ ہستی کی پریشاں نظری سے اس سے تو کہیں بیٹھ رہے توڑ کے اب پاؤں مل جائے نجات عشق کو اس در بدری سے رہتا ہوں فراقؔ اس لئے وارفتہ کہ دنیا کچھ ہوش میں آ جائے مری بے خبری سے
فراق گورکھپوری
فراق گورکھپوری

فراق گورکھپوری (پیدائش: 28 اگست 1896ء– وفات: 3 مارچ 1982ء) مصنف، ادیب، نقاد اور شاعر تھے۔ اُن کا شمار بیسویں صدی کے اردو زبان کے صفِ اول کے شعرا میں ہوتا تھا۔ ان کا اصل نام رگھو پتی سہائے تھا۔جدید شاعری میں فراق کا مقام بہت بلند ہے۔ آج کی شاعری پر فراق کے اثر کو باآسانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ بہترین شخصیت کے مالک تھے۔ حاضر جوابی میں ان کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ بین الاقوامی ادب سے بھی شغف رہا۔ تنقید میں رومانی تنقید کی ابتدا فراق سے ہوئی۔ ان کے معاصرین میں شاعر مشرق علامہ اقبال، فیض احمد فیض، کیفی اعظمی، یگانہ یاس چنگیزی، جوش ملیح آبادی، جگر مرادآبادی اور ساحر لدھیانوی جیسے شاعر ہیں۔ اتنی عظیم ہستیوں کی موجودگی کے باوجود انہوں نے ابتدائے عمر میں ہی اپنی شاعری کا لوہا منوالیا۔فراق پی سی یس اور آئی سی یس (انڈین سول سروس) کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ لیکن گاندھی جی کی تحریک عدم تعاون کی مخالفت میں استعفی دے دیا۔ جس کی پاداش میں انھیں جیل جانا پڑا۔ اس کے بعد وہ جامعہ الٰہ آباد میں انگریزی زبان کے لکچرر مقرر ہوئے۔ یہیں سے وہ دنیائے شعر و ادب کے آسمان پر سورج بن کر چمکے اور ناچاہتے ہوئے بھی معاصرین کو ماننا پڑا کہ بلا شبہ فراق اور دیگر شعرا کی شاعری میں فرق تو ضرور ہے۔ ان میں ایک انفرادیت تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو بطور شاعر منوا پائے۔ ان کی شہر آفاق کتاب گل نغمہ بھی اسی دوران منظر عام پر آئی۔ جس کو ہندوستان کا اعلیٰ معیار ادب گیان پیٹھ انعام بھی ملا۔ اور وہ آل انڈیا ریڈیو کے پروڈیوسر بھی رہے۔فراق کا انتقال طویل علالت کے بعد 3 مارچ 1982ء کو 85 سال کی عمر میں نئی دہلی میں ہوا۔

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR