Skip to content
فراق گورکھپوری فراق گورکھپوری

یہ نکہتوں کی نرم روی یہ ہوا یہ رات

یہ نکہتوں کی نرم روی یہ ہوا یہ رات یاد آ رہے ہیں عشق کو ٹوٹے تعلقات مایوسیوں کی گود میں دم توڑتا ہے عشق اب بھی کوئی بنا لے تو بگڑی نہیں ہے بات کچھ اور بھی تو ہو ان اشارات کے سوا یہ سب تو اے نگاہ کرم بات بات بات اک عمر کٹ گئی ہے ترے انتظار میں ایسے بھی ہیں کہ کٹ نہ سکی جن سے ایک رات ہم اہل انتظار کے آہٹ پہ کان تھے ٹھنڈی ہوا تھی غم تھا ترا ڈھل چلی تھی رات یوں تو بچی بچی سی اٹھی وہ نگاہ ناز دنیائے دل میں ہو ہی گئی کوئی واردات جن کا سراغ پا نہ سکی غم کی روح بھی ناداں ہوئے ہیں عشق میں ایسے بھی سانحات ہر سعی و ہر عمل میں محبت کا ہاتھ ہے تعمیر زندگی کے سمجھ کچھ محرکات اس جا تری نگاہ مجھے لے گئی جہاں لیتی ہو جیسے سانس یہ بے جان کائنات کیا نیند آئے اس کو جسے جاگنا نہ آئے جو دن کو دن کرے وہ کرے رات کو بھی رات دریا کے مد و جزر بھی پانی کے کھیل ہیں ہستی ہی کے کرشمے ہیں کیا موت کیا حیات اہل رضا میں شان بغاوت بھی ہو ذرا اتنی بھی زندگی نہ ہو پابند رسمیات ہم اہل غم نے رنگ زمانہ بدل دیا کوشش تو کی سبھی نے مگر بن پڑے کی بات پیدا کرے زمین نئی آسماں نیا اتنا تو لے کوئی اثر دور کائنات شاعر ہوں گہری نیند میں ہیں جو حقیقتیں چونکا رہے ہیں ان کو بھی میرے توہمات مجھ کو تو غم نے فرصت غم بھی نہ دی فراقؔ دے فرصت حیات نہ جیسے غم حیات
فراق گورکھپوری

فراق گورکھپوری

View profile

فراق گورکھپوری (پیدائش: 28 اگست 1896ء– وفات: 3 مارچ 1982ء) مصنف، ادیب، نقاد اور شاعر تھے۔ اُن کا شمار بیسویں صدی کے اردو زبان کے صفِ اول کے شعرا میں ہوتا تھا۔ ان کا اصل نام رگھو پتی سہائے تھا۔جدید شاعری میں فراق کا مقام بہت بلند ہے۔ آج کی شاعری پر فراق کے اثر کو باآسانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ بہترین شخصیت کے مالک تھے۔ حاضر جوابی میں ان کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ بین الاقوامی ادب سے بھی شغف رہا۔ تنقید میں رومانی تنقید کی ابتدا فراق سے ہوئی۔ ان کے معاصرین میں شاعر مشرق علامہ اقبال، فیض احمد فیض، کیفی اعظمی، یگانہ یاس چنگیزی، جوش ملیح آبادی، جگر مرادآبادی اور ساحر لدھیانوی جیسے شاعر ہیں۔ اتنی عظیم ہستیوں کی موجودگی کے باوجود انہوں نے ابتدائے عمر میں ہی اپنی شاعری کا لوہا منوالیا۔فراق پی سی یس اور آئی سی یس (انڈین سول سروس) کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ لیکن گاندھی جی کی تحریک عدم تعاون کی مخالفت میں استعفی دے دیا۔ جس کی پاداش میں انھیں جیل جانا پڑا۔ اس کے بعد وہ جامعہ الٰہ آباد میں انگریزی زبان کے لکچرر مقرر ہوئے۔ یہیں سے وہ دنیائے شعر و ادب کے آسمان پر سورج بن کر چمکے اور ناچاہتے ہوئے بھی معاصرین کو ماننا پڑا کہ بلا شبہ فراق اور دیگر شعرا کی شاعری میں فرق تو ضرور ہے۔ ان میں ایک انفرادیت تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو بطور شاعر منوا پائے۔ ان کی شہر آفاق کتاب گل نغمہ بھی اسی دوران منظر عام پر آئی۔ جس کو ہندوستان کا اعلیٰ معیار ادب گیان پیٹھ انعام بھی ملا۔ اور وہ آل انڈیا ریڈیو کے پروڈیوسر بھی رہے۔فراق کا انتقال طویل علالت کے بعد 3 مارچ 1982ء کو 85 سال کی عمر میں نئی دہلی میں ہوا۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR