ہجر و وصال یار کا پردہ اٹھا دیا

ہجر و وصال یار کا پردہ اٹھا دیا خود بڑھ کے عشق نے مجھے میرا پتا دیا گرد و غبار ہستئ فانی اڑا دیا اے کیمیائے عشق مجھے کیا بنا دیا وہ سامنے ہے اور نظر سے چھپا دیا اے عشق‌ بے حجاب مجھے کیا دکھا دیا وہ شان خامشی کہ بہاریں ہیں منتظر وہ رنگ گفتگو کہ گلستاں بنا دیا دم لے رہی تھیں حسن کی جب سحر‌ کاریاں ان وقفہ‌ ہائے کفر کو ایماں بنا دیا معلوم کچھ مجھی کو ہیں ان کی روانیاں جن قطرہ ہائے اشک کو دریا بنا دیا اک برق بے قرار تھی تمکین حسن بھی جس وقت عشق کو غم صبر آزما دیا ساقی مجھے بھی یاد ہیں وہ تشنہ کامیاں جن کو حریف ساغر و مینا بنا دیا معلوم ہے حقیقت غم ہائے روزگار دنیا کو تیرے درد نے دنیا بنا دیا اے شوخئ نگاہ کرم مدتوں کے بعد خواب گران غم سے مجھے کیوں جگا دیا کچھ شورشیں تغافل پنہاں میں تھیں جنہیں ہنگامہ زار حشر تمنا بنا دیا بڑھتا ہی جا رہا ہے جمال نظر فریب حسن نظر کو حسن خود آرا بنا دیا پھر دیکھنا نگاہ لڑی کس سے عشق کی گر حسن نے حجاب تغافل اٹھا دیا جب خون ہو چکا دل ہستی‌ٔ اعتبار کچھ درد بچ رہے جنہیں انساں بنا دیا گم کروۂ‌ وفور‌ غم انتظار ہوں تو کیا چھپا کہ مجھ کو مجھی سے چھپا دیا رات اب حریف صبح قیامت ہی کیوں نہ ہو جو کچھ بھی ہو اس آنکھ کو اب تو جگا دیا اب میں ہوں اور لطف و کرم کے تکلفات یہ کیوں حجاب رنجش بے جا بنا دیا تھی یوں تو شام ہجر مگر پچھلی رات کو وہ درد اٹھا فراقؔ کہ میں مسکرا دیا
فراق گورکھپوری
فراق گورکھپوری

فراق گورکھپوری (پیدائش: 28 اگست 1896ء– وفات: 3 مارچ 1982ء) مصنف، ادیب، نقاد اور شاعر تھے۔ اُن کا شمار بیسویں صدی کے اردو زبان کے صفِ اول کے شعرا میں ہوتا تھا۔ ان کا اصل نام رگھو پتی سہائے تھا۔جدید شاعری میں فراق کا مقام بہت بلند ہے۔ آج کی شاعری پر فراق کے اثر کو باآسانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ بہترین شخصیت کے مالک تھے۔ حاضر جوابی میں ان کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ بین الاقوامی ادب سے بھی شغف رہا۔ تنقید میں رومانی تنقید کی ابتدا فراق سے ہوئی۔ ان کے معاصرین میں شاعر مشرق علامہ اقبال، فیض احمد فیض، کیفی اعظمی، یگانہ یاس چنگیزی، جوش ملیح آبادی، جگر مرادآبادی اور ساحر لدھیانوی جیسے شاعر ہیں۔ اتنی عظیم ہستیوں کی موجودگی کے باوجود انہوں نے ابتدائے عمر میں ہی اپنی شاعری کا لوہا منوالیا۔فراق پی سی یس اور آئی سی یس (انڈین سول سروس) کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ لیکن گاندھی جی کی تحریک عدم تعاون کی مخالفت میں استعفی دے دیا۔ جس کی پاداش میں انھیں جیل جانا پڑا۔ اس کے بعد وہ جامعہ الٰہ آباد میں انگریزی زبان کے لکچرر مقرر ہوئے۔ یہیں سے وہ دنیائے شعر و ادب کے آسمان پر سورج بن کر چمکے اور ناچاہتے ہوئے بھی معاصرین کو ماننا پڑا کہ بلا شبہ فراق اور دیگر شعرا کی شاعری میں فرق تو ضرور ہے۔ ان میں ایک انفرادیت تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو بطور شاعر منوا پائے۔ ان کی شہر آفاق کتاب گل نغمہ بھی اسی دوران منظر عام پر آئی۔ جس کو ہندوستان کا اعلیٰ معیار ادب گیان پیٹھ انعام بھی ملا۔ اور وہ آل انڈیا ریڈیو کے پروڈیوسر بھی رہے۔فراق کا انتقال طویل علالت کے بعد 3 مارچ 1982ء کو 85 سال کی عمر میں نئی دہلی میں ہوا۔

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR