Skip to content
فراق گورکھپوری فراق گورکھپوری

رس میں ڈوبا ہوا لہراتا بدن کیا کہنا

رس میں ڈوبا ہوا لہراتا بدن کیا کہنا کروٹیں لیتی ہوئی صبح چمن کیا کہنا نگہ ناز میں یہ پچھلے پہر رنگ خمار نیند میں ڈوبی ہوئی چندر کرن کیا کہنا باغ جنت پہ گھٹا جیسے برس کے کھل جائے یہ سہانی تری خوشبوئے بدن کیا کہنا ٹھہری ٹھہری سی نگاہوں میں یہ وحشت کی کرن چونکے چونکے سے یہ آہوئے ختن کیا کہنا روپ سنگیت نے دھارا ہے بدن کا یہ رچاؤ تجھ پہ لہلوٹ ہے بے ساختہ پن کیا کہنا جیسے لہرائے کوئی شعلہ کمر کی یہ لچک سر بسر آتش سیال بدن کیا کہنا جس طرح جلوۂ فردوس ہواؤں سے چھنے پیرہن میں ترے رنگینیٔ تن کیا کہنا جلوہ و پردے کا یہ رنگ دم نظارہ جس طرح ادھ کھلے گھونگھٹ میں دلہن کیا کہنا دم تقریر کھل اٹھتے ہیں گلستاں کیا کیا یوں تو اک غنچۂ نورس ہے دہن کیا کہنا دل کے آئینے میں اس طرح اترتی ہے نگاہ جیسے پانی میں لچک جائے کرن کیا کہنا لہلہاتا ہوا یہ قد یہ لہکتا جوبن زلف سو مہکی ہوئی راتوں کا بن کیا کہنا تو محبت کا ستارہ تو جوانی کا سہاگ حسن لو دیتا ہے لعل یمن کیا کہنا تیری آواز سویرا تری باتیں تڑکا آنکھیں کھل جاتی ہیں اعجاز سخن کیا کہنا زلف شب گوں کی چمک پیکر سیمیں کی دمک دیپ مالا ہے سر گنگ و جمن کیا کہنا نیلگوں شبنمی کپڑوں میں بدن کی یہ جوت جیسے چھنتی ہو ستاروں کی کرن کیا کہنا
فراق گورکھپوری

فراق گورکھپوری

View profile

فراق گورکھپوری (پیدائش: 28 اگست 1896ء– وفات: 3 مارچ 1982ء) مصنف، ادیب، نقاد اور شاعر تھے۔ اُن کا شمار بیسویں صدی کے اردو زبان کے صفِ اول کے شعرا میں ہوتا تھا۔ ان کا اصل نام رگھو پتی سہائے تھا۔جدید شاعری میں فراق کا مقام بہت بلند ہے۔ آج کی شاعری پر فراق کے اثر کو باآسانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ بہترین شخصیت کے مالک تھے۔ حاضر جوابی میں ان کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ بین الاقوامی ادب سے بھی شغف رہا۔ تنقید میں رومانی تنقید کی ابتدا فراق سے ہوئی۔ ان کے معاصرین میں شاعر مشرق علامہ اقبال، فیض احمد فیض، کیفی اعظمی، یگانہ یاس چنگیزی، جوش ملیح آبادی، جگر مرادآبادی اور ساحر لدھیانوی جیسے شاعر ہیں۔ اتنی عظیم ہستیوں کی موجودگی کے باوجود انہوں نے ابتدائے عمر میں ہی اپنی شاعری کا لوہا منوالیا۔فراق پی سی یس اور آئی سی یس (انڈین سول سروس) کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ لیکن گاندھی جی کی تحریک عدم تعاون کی مخالفت میں استعفی دے دیا۔ جس کی پاداش میں انھیں جیل جانا پڑا۔ اس کے بعد وہ جامعہ الٰہ آباد میں انگریزی زبان کے لکچرر مقرر ہوئے۔ یہیں سے وہ دنیائے شعر و ادب کے آسمان پر سورج بن کر چمکے اور ناچاہتے ہوئے بھی معاصرین کو ماننا پڑا کہ بلا شبہ فراق اور دیگر شعرا کی شاعری میں فرق تو ضرور ہے۔ ان میں ایک انفرادیت تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو بطور شاعر منوا پائے۔ ان کی شہر آفاق کتاب گل نغمہ بھی اسی دوران منظر عام پر آئی۔ جس کو ہندوستان کا اعلیٰ معیار ادب گیان پیٹھ انعام بھی ملا۔ اور وہ آل انڈیا ریڈیو کے پروڈیوسر بھی رہے۔فراق کا انتقال طویل علالت کے بعد 3 مارچ 1982ء کو 85 سال کی عمر میں نئی دہلی میں ہوا۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR