یہ سرمئی فضاؤں کی کنمناہٹیں

یہ سرمئی فضاؤں کی کنمناہٹیں ملتی ہیں مجھ کو پچھلے پہر تیری آہٹیں اس کائنات غم کی فسردہ فضاؤں میں بکھرا گئے ہیں آ کے وہ کچھ مسکراہٹیں اے جسم‌ نازنین نگار نظر نواز صبح شب وصال تیری ملگجاہٹیں پڑتی ہے آسمان محبت پہ چھوٹ سی بل بے جبین ناز تری جگمگاہٹیں چلتی ہے جب نسیم خیال خرام ناز سنتا ہوں دامنوں کی ترے سرسراہٹیں چشم سیہ تبسم پنہاں لئے ہوئے پو پھوٹنے سے قبل افق کی اداہٹیں جنبش میں جیسے شاخ ہو گلہائے‌ نغمہ کی اک پیکر جمیل کی یہ لہلہاہٹیں جھونکوں کی نذر ہے چمن انتظار دوست یاد امید و بیم کی یہ سنسناہٹیں ہو سامنا اگر تو خجل ہو نگاہ برق دیکھی ہیں عضو عضو میں وہ اچپلاہٹیں کس دیس کو سدھار گئیں اے جمال یار رنگیں لبوں پہ کھیل کے کچھ مسکراہٹیں رخسار تر سے تازہ ہو باغ عدن کی یاد اور اس کی پہلی صبح کی وہ رسمساہٹیں ساز جمال کی یہ نواہائے سرمدی جوبن تو وہ فرشتے سنیں گنگناہٹیں آزردگی حسن بھی کس درجہ شوخ ہے اشکوں میں تیرتی ہوئی کچھ مسکراہٹیں ہونے لگا ہوں خود سے قریں اے شب الم میں پا رہا ہوں ہجر میں کچھ اپنی آہٹیں میری غزل کی جان سمجھنا انہیں فراقؔ شمع خیال یار کی یہ تھرتھراہٹیں
فراق گورکھپوری
فراق گورکھپوری

فراق گورکھپوری (پیدائش: 28 اگست 1896ء– وفات: 3 مارچ 1982ء) مصنف، ادیب، نقاد اور شاعر تھے۔ اُن کا شمار بیسویں صدی کے اردو زبان کے صفِ اول کے شعرا میں ہوتا تھا۔ ان کا اصل نام رگھو پتی سہائے تھا۔جدید شاعری میں فراق کا مقام بہت بلند ہے۔ آج کی شاعری پر فراق کے اثر کو باآسانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ بہترین شخصیت کے مالک تھے۔ حاضر جوابی میں ان کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ بین الاقوامی ادب سے بھی شغف رہا۔ تنقید میں رومانی تنقید کی ابتدا فراق سے ہوئی۔ ان کے معاصرین میں شاعر مشرق علامہ اقبال، فیض احمد فیض، کیفی اعظمی، یگانہ یاس چنگیزی، جوش ملیح آبادی، جگر مرادآبادی اور ساحر لدھیانوی جیسے شاعر ہیں۔ اتنی عظیم ہستیوں کی موجودگی کے باوجود انہوں نے ابتدائے عمر میں ہی اپنی شاعری کا لوہا منوالیا۔فراق پی سی یس اور آئی سی یس (انڈین سول سروس) کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ لیکن گاندھی جی کی تحریک عدم تعاون کی مخالفت میں استعفی دے دیا۔ جس کی پاداش میں انھیں جیل جانا پڑا۔ اس کے بعد وہ جامعہ الٰہ آباد میں انگریزی زبان کے لکچرر مقرر ہوئے۔ یہیں سے وہ دنیائے شعر و ادب کے آسمان پر سورج بن کر چمکے اور ناچاہتے ہوئے بھی معاصرین کو ماننا پڑا کہ بلا شبہ فراق اور دیگر شعرا کی شاعری میں فرق تو ضرور ہے۔ ان میں ایک انفرادیت تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو بطور شاعر منوا پائے۔ ان کی شہر آفاق کتاب گل نغمہ بھی اسی دوران منظر عام پر آئی۔ جس کو ہندوستان کا اعلیٰ معیار ادب گیان پیٹھ انعام بھی ملا۔ اور وہ آل انڈیا ریڈیو کے پروڈیوسر بھی رہے۔فراق کا انتقال طویل علالت کے بعد 3 مارچ 1982ء کو 85 سال کی عمر میں نئی دہلی میں ہوا۔

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR