زیر و بم سے ساز خلقت کے جہاں بنتا گیا

زیر و بم سے ساز خلقت کے جہاں بنتا گیا یہ زمیں بنتی گئی یہ آسماں بنتا گیا داستان جور بے حد خون سے لکھتا رہا قطرہ قطرہ اشک غم کا بے کراں بنتا گیا عشق تنہا سے ہوئیں آباد کتنی منزلیں اک مسافر کارواں در کارواں بنتا گیا میں ترے جس غم کو اپنا جانتا تھا وہ بھی تو زیب عنوان حدیث دیگراں بنتا گیا بات نکلے بات سے جیسے وہ تھا تیرا بیاں نام تیرا داستاں در داستاں بنتا گیا ہم کو ہے معلوم سب روداد علم و فلسفہ ہاں ہر ایمان و یقیں وہم و گماں بنتا گیا میں کتاب دل میں اپنا حال غم لکھتا رہا ہر ورق اک باب تاریخ جہاں بنتا گیا بس اسی کی ترجمانی ہے مرے اشعار میں جو سکوت راز رنگیں داستاں بنتا گیا میں نے سونپا تھا تجھے اک کام ساری عمر میں وہ بگڑتا ہی گیا اے دل کہاں بنتا گیا واردات دل کو دل ہی میں جگہ دیتے رہے ہر حساب غم حساب دوستاں بنتا گیا میری گھٹی میں پڑی تھی ہو کے حل اردو زباں جو بھی میں کہتا گیا حسن بیاں بنتا گیا وقت کے ہاتھوں یہاں کیا کیا خزانے لٹ گئے ایک تیرا غم کہ گنج شائیگاں بنتا گیا سر زمین ہند پر اقوام عالم کے فراقؔ قافلے بستے گئے ہندوستاں بنتا گیا
فراق گورکھپوری
فراق گورکھپوری

فراق گورکھپوری (پیدائش: 28 اگست 1896ء– وفات: 3 مارچ 1982ء) مصنف، ادیب، نقاد اور شاعر تھے۔ اُن کا شمار بیسویں صدی کے اردو زبان کے صفِ اول کے شعرا میں ہوتا تھا۔ ان کا اصل نام رگھو پتی سہائے تھا۔جدید شاعری میں فراق کا مقام بہت بلند ہے۔ آج کی شاعری پر فراق کے اثر کو باآسانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ بہترین شخصیت کے مالک تھے۔ حاضر جوابی میں ان کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ بین الاقوامی ادب سے بھی شغف رہا۔ تنقید میں رومانی تنقید کی ابتدا فراق سے ہوئی۔ ان کے معاصرین میں شاعر مشرق علامہ اقبال، فیض احمد فیض، کیفی اعظمی، یگانہ یاس چنگیزی، جوش ملیح آبادی، جگر مرادآبادی اور ساحر لدھیانوی جیسے شاعر ہیں۔ اتنی عظیم ہستیوں کی موجودگی کے باوجود انہوں نے ابتدائے عمر میں ہی اپنی شاعری کا لوہا منوالیا۔فراق پی سی یس اور آئی سی یس (انڈین سول سروس) کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ لیکن گاندھی جی کی تحریک عدم تعاون کی مخالفت میں استعفی دے دیا۔ جس کی پاداش میں انھیں جیل جانا پڑا۔ اس کے بعد وہ جامعہ الٰہ آباد میں انگریزی زبان کے لکچرر مقرر ہوئے۔ یہیں سے وہ دنیائے شعر و ادب کے آسمان پر سورج بن کر چمکے اور ناچاہتے ہوئے بھی معاصرین کو ماننا پڑا کہ بلا شبہ فراق اور دیگر شعرا کی شاعری میں فرق تو ضرور ہے۔ ان میں ایک انفرادیت تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو بطور شاعر منوا پائے۔ ان کی شہر آفاق کتاب گل نغمہ بھی اسی دوران منظر عام پر آئی۔ جس کو ہندوستان کا اعلیٰ معیار ادب گیان پیٹھ انعام بھی ملا۔ اور وہ آل انڈیا ریڈیو کے پروڈیوسر بھی رہے۔فراق کا انتقال طویل علالت کے بعد 3 مارچ 1982ء کو 85 سال کی عمر میں نئی دہلی میں ہوا۔

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR