نرم فضا کی کروٹیں دل کو دکھا کے رہ گئیں

نرم فضا کی کروٹیں دل کو دکھا کے رہ گئیں ٹھنڈی ہوائیں بھی تری یاد دلا کے رہ گئیں شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں مجھ کو خراب کر گئیں نیم نگاہیاں تری مجھ سے حیات و موت بھی آنکھیں چرا کے رہ گئیں حسن نظر فریب میں کس کو کلام تھا مگر تیری ادائیں آج تو دل میں سما کے رہ گئیں تب کہیں کچھ پتہ چلا صدق و خلوص حسن کا جب وہ نگاہیں عشق سے باتیں بنا کے رہ گئیں تیرے خرام ناز سے آج وہاں چمن کھلے فصلیں بہار کی جہاں خاک اڑا کے رہ گئیں پوچھ نہ ان نگاہوں کی طرفہ کرشمہ سازیاں فتنے سلا کے رہ گئیں فتنے جگا کے رہ گئیں تاروں کی آنکھ بھی بھر آئی میری صدائے درد پر ان کی نگاہیں بھی ترا نام بتا کے رہ گئیں اف یہ زمیں کی گردشیں آہ یہ غم کی ٹھوکریں یہ بھی تو بخت خفتہ کے شانے ہلا کے رہ گئیں اور تو اہل درد کون سنبھالتا بھلا ہاں تیری شادمانیاں ان کو رلا کے رہ گئیں یاد کچھ آئیں اس طرح بھولی ہوئی کہانیاں کھوے ہوئے دلوں میں آج درد اٹھا کے رہ گئیں ساز نشاط زندگی آج لرز لرز اٹھا کس کی نگاہیں عشق کا درد سنا کے رہ گئیں تم نہیں آئے اور رات رہ گئی راہ دیکھتی تاروں کی محفلیں بھی آج آنکھیں بچھا کے رہ گئیں جھوم کے پھر چلیں ہوائیں وجد میں آئیں پھر فضائیں پھر تری یاد کی گھٹائیں سینوں پہ چھا کے رہ گئیں قلب و نگاہ کی یہ عید اف یہ مآل قرب و دید چرخ کی گردشیں تجھے مجھ سے چھپا کے رہ گئیں پھر ہیں وہی اداسیاں پھر وہی سونی کائنات اہل طرب کی محفلیں رنگ جما کے رہ گئیں کون سکون دے سکا غم زدگان عشق کو بھیگتی راتیں بھی فراقؔ آگ لگا کے رہ گئیں
فراق گورکھپوری
فراق گورکھپوری

فراق گورکھپوری (پیدائش: 28 اگست 1896ء– وفات: 3 مارچ 1982ء) مصنف، ادیب، نقاد اور شاعر تھے۔ اُن کا شمار بیسویں صدی کے اردو زبان کے صفِ اول کے شعرا میں ہوتا تھا۔ ان کا اصل نام رگھو پتی سہائے تھا۔جدید شاعری میں فراق کا مقام بہت بلند ہے۔ آج کی شاعری پر فراق کے اثر کو باآسانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ بہترین شخصیت کے مالک تھے۔ حاضر جوابی میں ان کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ بین الاقوامی ادب سے بھی شغف رہا۔ تنقید میں رومانی تنقید کی ابتدا فراق سے ہوئی۔ ان کے معاصرین میں شاعر مشرق علامہ اقبال، فیض احمد فیض، کیفی اعظمی، یگانہ یاس چنگیزی، جوش ملیح آبادی، جگر مرادآبادی اور ساحر لدھیانوی جیسے شاعر ہیں۔ اتنی عظیم ہستیوں کی موجودگی کے باوجود انہوں نے ابتدائے عمر میں ہی اپنی شاعری کا لوہا منوالیا۔فراق پی سی یس اور آئی سی یس (انڈین سول سروس) کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ لیکن گاندھی جی کی تحریک عدم تعاون کی مخالفت میں استعفی دے دیا۔ جس کی پاداش میں انھیں جیل جانا پڑا۔ اس کے بعد وہ جامعہ الٰہ آباد میں انگریزی زبان کے لکچرر مقرر ہوئے۔ یہیں سے وہ دنیائے شعر و ادب کے آسمان پر سورج بن کر چمکے اور ناچاہتے ہوئے بھی معاصرین کو ماننا پڑا کہ بلا شبہ فراق اور دیگر شعرا کی شاعری میں فرق تو ضرور ہے۔ ان میں ایک انفرادیت تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو بطور شاعر منوا پائے۔ ان کی شہر آفاق کتاب گل نغمہ بھی اسی دوران منظر عام پر آئی۔ جس کو ہندوستان کا اعلیٰ معیار ادب گیان پیٹھ انعام بھی ملا۔ اور وہ آل انڈیا ریڈیو کے پروڈیوسر بھی رہے۔فراق کا انتقال طویل علالت کے بعد 3 مارچ 1982ء کو 85 سال کی عمر میں نئی دہلی میں ہوا۔

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR