نگاہ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا

نگاہ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا حجاب اہل محبت کو آئے ہیں کیا کیا جہاں میں تھی بس اک افواہ تیرے جلووں کی چراغ دیر و حرم جھلملائے ہیں کیا کیا دو چار برق تجلی سے رہنے والوں نے فریب نرم نگاہی کے کھائے ہیں کیا کیا دلوں پہ کرتے ہوئے آج آتی جاتی چوٹ تری نگاہ نے پہلو بچائے ہیں کیا کیا نثار نرگس مے گوں کہ آج پیمانے لبوں تک آئے ہوئے تھرتھرائے ہیں کیا کیا وہ اک ذرا سی جھلک برق کم نگاہی کی جگر کے زخم نہاں مسکرائے ہیں کیا کیا چراغ طور جلے آئنہ در آئینہ حجاب برق ادا نے اٹھائے ہیں کیا کیا بقدر ذوق نظر دید حسن کیا ہو مگر نگاہ شوق میں جلوے سمائے ہیں کیا کیا کہیں چراغ کہیں گل کہیں دل برباد خرام ناز نے فتنے اٹھائے ہیں کیا کیا تغافل اور بڑھا اس غزال رعنا کا فسون غم نے بھی جادو جگائے ہیں کیا کیا ہزار فتنۂ بیدار خواب رنگیں میں چمن میں غنچۂ گل رنگ لائے ہیں کیا کیا ترے خلوص نہاں کا تو آہ کیا کہنا سلوک اچٹے بھی دل میں سمائے ہیں کیا کیا نظر بچا کے ترے عشوہ ہائے پنہاں نے دلوں میں درد محبت اٹھائے ہیں کیا کیا پیام حسن پیام جنوں پیام فنا تری نگہ نے فسانے سنائے ہیں کیا کیا تمام حسن کے جلوے تمام محرومی بھرم نگاہ نے اپنے گنوائے ہیں کیا کیا فراقؔ راہ وفا میں سبک روی تیری بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگائے ہیں کیا کیا
فراق گورکھپوری
فراق گورکھپوری

فراق گورکھپوری (پیدائش: 28 اگست 1896ء– وفات: 3 مارچ 1982ء) مصنف، ادیب، نقاد اور شاعر تھے۔ اُن کا شمار بیسویں صدی کے اردو زبان کے صفِ اول کے شعرا میں ہوتا تھا۔ ان کا اصل نام رگھو پتی سہائے تھا۔جدید شاعری میں فراق کا مقام بہت بلند ہے۔ آج کی شاعری پر فراق کے اثر کو باآسانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ بہترین شخصیت کے مالک تھے۔ حاضر جوابی میں ان کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ بین الاقوامی ادب سے بھی شغف رہا۔ تنقید میں رومانی تنقید کی ابتدا فراق سے ہوئی۔ ان کے معاصرین میں شاعر مشرق علامہ اقبال، فیض احمد فیض، کیفی اعظمی، یگانہ یاس چنگیزی، جوش ملیح آبادی، جگر مرادآبادی اور ساحر لدھیانوی جیسے شاعر ہیں۔ اتنی عظیم ہستیوں کی موجودگی کے باوجود انہوں نے ابتدائے عمر میں ہی اپنی شاعری کا لوہا منوالیا۔فراق پی سی یس اور آئی سی یس (انڈین سول سروس) کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ لیکن گاندھی جی کی تحریک عدم تعاون کی مخالفت میں استعفی دے دیا۔ جس کی پاداش میں انھیں جیل جانا پڑا۔ اس کے بعد وہ جامعہ الٰہ آباد میں انگریزی زبان کے لکچرر مقرر ہوئے۔ یہیں سے وہ دنیائے شعر و ادب کے آسمان پر سورج بن کر چمکے اور ناچاہتے ہوئے بھی معاصرین کو ماننا پڑا کہ بلا شبہ فراق اور دیگر شعرا کی شاعری میں فرق تو ضرور ہے۔ ان میں ایک انفرادیت تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو بطور شاعر منوا پائے۔ ان کی شہر آفاق کتاب گل نغمہ بھی اسی دوران منظر عام پر آئی۔ جس کو ہندوستان کا اعلیٰ معیار ادب گیان پیٹھ انعام بھی ملا۔ اور وہ آل انڈیا ریڈیو کے پروڈیوسر بھی رہے۔فراق کا انتقال طویل علالت کے بعد 3 مارچ 1982ء کو 85 سال کی عمر میں نئی دہلی میں ہوا۔

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR