اپنے غم کا مجھے کہاں غم ہے

اپنے غم کا مجھے کہاں غم ہے اے کہ تیری خوشی مقدم ہے آگ میں جو پڑا وہ آگ ہوا حسن سوز نہاں مجسم ہے اس کے شیطان کو کہاں توفیق عشق کرنا گناہ آدم ہے دل کے دھڑکوں میں زور ضرب کلیم کس قدر اس حباب میں دم ہے ہے وہی عشق زندہ و جاوید جسے آب حیات بھی سم ہے اس میں ٹھہراؤ یا سکون کہاں زندگی انقلاب پیہم ہے اک تڑپ موج تہ نشیں کی طرح زندگی کی بنائے محکم ہے رہتی دنیا میں عشق کی دنیا نئے عنوان سے منظم ہے اٹھنے والی ہے بزم ماضی کی روشنی کم ہے زندگی کم ہے یہ بھی نظم حیات ہے کوئی زندگی زندگی کا ماتم ہے اک معمہ ہے زندگی اے دوست یہ بھی تیری ادائے‌ مبہم ہے اے محبت تو اک عذاب سہی زندگی بے ترے جہنم ہے اک تلاطم سا رنگ و نکہت کا پیکر ناز میں دما دم ہے پھرنے کو ہے رسیلی نیم نگاہ آہوئے ناز مائل رم ہے روپ کے جوت زیر پیراہن گلستاں پر ردائے شبنم ہے میرے سینے سے لگ کے سو جاؤ پلکیں بھاری ہیں رات بھی کم ہے آہ یہ مہربانیاں تیری شادمانی کی آنکھ پر نم ہے نرم و دوشیزہ کس قدر ہے نگاہ ہر نظر داستان مریم ہے مہر و مہ شعلہ ہائے ساز جمال جس کی جھنکار اتنی مدھم ہے جیسے اچھلے جنوں کی پہلی شام اس ادا سے وہ زلف برہم ہے یوں بھی دل میں نہیں وہ پہلی امنگ اور تیری نگاہ بھی کم ہے اور کیوں چھیڑتی ہے گردش چرخ وہ نظر پھر گئی یہ کیا کم ہے روکش صد حریم دل ہے فضا وہ جہاں ہیں عجیب عالم ہے دئے جاتی ہے لو صدائے فراقؔ ہاں وہی سوز و ساز کم کم ہے
فراق گورکھپوری
فراق گورکھپوری

فراق گورکھپوری (پیدائش: 28 اگست 1896ء– وفات: 3 مارچ 1982ء) مصنف، ادیب، نقاد اور شاعر تھے۔ اُن کا شمار بیسویں صدی کے اردو زبان کے صفِ اول کے شعرا میں ہوتا تھا۔ ان کا اصل نام رگھو پتی سہائے تھا۔جدید شاعری میں فراق کا مقام بہت بلند ہے۔ آج کی شاعری پر فراق کے اثر کو باآسانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ بہترین شخصیت کے مالک تھے۔ حاضر جوابی میں ان کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ بین الاقوامی ادب سے بھی شغف رہا۔ تنقید میں رومانی تنقید کی ابتدا فراق سے ہوئی۔ ان کے معاصرین میں شاعر مشرق علامہ اقبال، فیض احمد فیض، کیفی اعظمی، یگانہ یاس چنگیزی، جوش ملیح آبادی، جگر مرادآبادی اور ساحر لدھیانوی جیسے شاعر ہیں۔ اتنی عظیم ہستیوں کی موجودگی کے باوجود انہوں نے ابتدائے عمر میں ہی اپنی شاعری کا لوہا منوالیا۔فراق پی سی یس اور آئی سی یس (انڈین سول سروس) کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ لیکن گاندھی جی کی تحریک عدم تعاون کی مخالفت میں استعفی دے دیا۔ جس کی پاداش میں انھیں جیل جانا پڑا۔ اس کے بعد وہ جامعہ الٰہ آباد میں انگریزی زبان کے لکچرر مقرر ہوئے۔ یہیں سے وہ دنیائے شعر و ادب کے آسمان پر سورج بن کر چمکے اور ناچاہتے ہوئے بھی معاصرین کو ماننا پڑا کہ بلا شبہ فراق اور دیگر شعرا کی شاعری میں فرق تو ضرور ہے۔ ان میں ایک انفرادیت تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو بطور شاعر منوا پائے۔ ان کی شہر آفاق کتاب گل نغمہ بھی اسی دوران منظر عام پر آئی۔ جس کو ہندوستان کا اعلیٰ معیار ادب گیان پیٹھ انعام بھی ملا۔ اور وہ آل انڈیا ریڈیو کے پروڈیوسر بھی رہے۔فراق کا انتقال طویل علالت کے بعد 3 مارچ 1982ء کو 85 سال کی عمر میں نئی دہلی میں ہوا۔

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR