Skip to content
جگر مراد آبادی جگر مراد آبادی

دل گیا رونق حیات گئی

دل گیا رونق حیات گئی غم گیا ساری کائنات گئی دل دھڑکتے ہی پھر گئی وہ نظر لب تک آئی نہ تھی کہ بات گئی دن کا کیا ذکر تیرہ بختوں میں ایک رات آئی ایک رات گئی تیری باتوں سے آج تو واعظ وہ جو تھی خواہش نجات گئی ان کے بہلائے بھی نہ بہلا دل رائیگاں سعئ التفات گئی مرگ عاشق تو کچھ نہیں لیکن اک مسیحا نفس کی بات گئی اب جنوں آپ ہے گریباں گیر اب وہ رسم تکلفات گئی ہم نے بھی وضع غم بدل ڈالی جب سے وہ طرز التفات گئی ترک الفت بہت بجا ناصح لیکن اس تک اگر یہ بات گئی ہاں مزے لوٹ لے جوانی کے پھر نہ آئے گی یہ جو رات گئی ہاں یہ سرشاریاں جوانی کی آنکھ جھپکی ہی تھی کہ رات گئی جلوۂ ذات اے معاذ اللہ تاب آئینۂ صفات گئی نہیں ملتا مزاج دل ہم سے غالباً دور تک یہ بات گئی قید ہستی سے کب نجات جگرؔ موت آئی اگر حیات گئی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR