Skip to content
جگر مراد آبادی جگر مراد آبادی

کیا تعجب کہ مری روح رواں تک پہنچے

کیا تعجب کہ مری روح رواں تک پہنچے پہلے کوئی مرے نغموں کی زباں تک پہنچے جب ہر اک شورش غم ضبط فغاں تک پہنچے پھر خدا جانے یہ ہنگامہ کہاں تک پہنچے آنکھ تک دل سے نہ آئے نہ زباں تک پہنچے بات جس کی ہے اسی آفت جاں تک پہنچے تو جہاں پر تھا بہت پہلے وہیں آج بھی ہے دیکھ رندان خوش انفاس کہاں تک پہنچے جو زمانے کو برا کہتے ہیں خود ہیں وہ برے کاش یہ بات ترے گوش گراں تک پہنچے بڑھ کے رندوں نے قدم حضرت واعظ کے لیے گرتے پڑتے جو در پیر مغاں تک پہنچے تو مرے حال پریشاں پہ بہت طنز نہ کر اپنے گیسو بھی ذرا دیکھ کہاں تک پہنچے ان کا جو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیں میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے عشق کی چوٹ دکھانے میں کہیں آتی ہے کچھ اشارے تھے کہ جو لفظ و بیاں تک پہنچے جلوے بیتاب تھے جو پردۂ فطرت میں جگرؔ خود تڑپ کر مری چشم نگراں تک پہنچے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR