Skip to content
جگر مراد آبادی جگر مراد آبادی

عشق لا محدود جب تک رہنما ہوتا نہیں

عشق لا محدود جب تک رہنما ہوتا نہیں زندگی سے زندگی کا حق ادا ہوتا نہیں بے کراں ہوتا نہیں بے انتہا ہوتا نہیں قطرہ جب تک بڑھ کے قلزم آشنا ہوتا نہیں اس سے بڑھ کر دوست کوئی دوسرا ہوتا نہیں سب جدا ہو جائیں لیکن غم جدا ہوتا نہیں زندگی اک حادثہ ہے اور کیسا حادثہ موت سے بھی ختم جس کا سلسلہ ہوتا نہیں کون یہ ناصح کو سمجھائے بہ طرز دل نشیں عشق صادق ہو تو غم بھی بے مزا ہوتا نہیں درد سے معمور ہوتی جا رہی ہے کائنات اک دل انساں مگر درد آشنا ہوتا نہیں میرے عرض غم پہ وہ کہنا کسی کا ہائے ہائے شکوۂ غم شیوۂ اہل وفا ہوتا نہیں اس مقام قرب تک اب عشق پہنچا ہی جہاں دیدہ و دل کا بھی اکثر واسطا ہوتا نہیں ہر قدم کے ساتھ منزل لیکن اس کا کیا علاج عشق ہی کم بخت منزل آشنا ہوتا نہیں اللہ اللہ یہ کمال اور ارتباط حسن و عشق فاصلے ہوں لاکھ دل سے دل جدا ہوتا نہیں کیا قیامت ہے کہ اس دور ترقی میں جگرؔ آدمی سے آدمی کا حق ادا ہوتا نہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR