سیماب اکبر آبادی سیماب اکبر آبادی

شاید جگہ نصیب ہو اس گل کے ہار میں

شاید جگہ نصیب ہو اس گل کے ہار میں میں پھول بن کے آؤں گا اب کی بہار میں کفنائے باغباں مجھے پھولوں کے ہار میں کچھ تو برا ہو دل مرا اب کی بہار میں گندھوا کے دل کو لائے ہیں پھولوں کے ہار میں یہ ہار ان کو نذر کریں گے بہار میں نچلا رہا نہ سوز دروں انتظار میں اس آگ نے سرنگ لگا دی مزار میں خلوت خیال یار سے ہے انتظار میں آئیں فرشتے لے کے اجازت مزار میں ہم کو تو جاگنا ہے ترے انتظار میں آئی ہو جس کو نیند وہ سوئے مزار میں میں دل کی قدر کیوں نہ کروں ہجر یار میں ان کی سی شوخیاں ہیں اسی بے قرار میں سیمابؔ بے تڑپ سی تڑپ ہجر یار میں کیا بجلیاں بھری ہیں دل بے قرار میں تھی تاب حسن شوخیٔ تصویر یار میں بجلی چمک گئی نظر بے قرار میں بادل کی یہ گرج نہیں ابر بہار میں برا رہا ہے کوئی شرابی خمار میں عمر دراز مانگ کے لائی تھی چار دن دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں تنہا مرے ستانے کو رہ جائے کیوں زمیں اے آسمان تو بھی اتر آ مزار میں خود حسن نا خدائے محبت خدائے دل کیا کیا لئے ہیں میں نے ترے نام پیار میں مجھ کو مٹا گئی روش شرمگیں تری میں جذب ہو گیا نگۂ شرمسار میں اللہ رے شام غم مری بے اختیاریاں اک دل ہے پاس وہ بھی نہیں اختیار میں اے اشک گرم ماند نہ پڑ جائے روشنی پھر تیل ہو چکا ہے دل داغدار میں یہ معجزہ ہے وحشت عریاں پسند کا میں کوئے یار میں ہوں کفن ہے مزار میں اے درد دل کو چھیڑ کے پھر بار بار چھیڑ ہے چھیڑ کا مزا خلش بار بار میں افراط معصیت سے فضیلت ملی مجھے میں ہوں گناہ گاروں کی پہلی قطار میں ڈرتا ہوں یہ تڑپ کے لحد کو الٹ نہ دے ہاتھوں سے دل دبائے ہوئے ہوں مزار میں تم نے تو ہاتھ جور و ستم سے اٹھا لیا اب کیا مزا رہا ستم روزگار میں کیا جانے رحمتوں نے لیا کس طرح حساب دو چار بھی گناہ نہ نکلے شمار میں او پردہ دار اب تو نکل آ کہ حشر ہے دنیا کھڑی ہوئی ہے ترے انتظار میں روئی ہے ساری رات اندھیرے میں بے کسی آنسو بھرے ہوئے ہیں چراغ مزار میں سیمابؔ پھول اگیں لحد عندلیب سے اتنی تو زندگی ہو ہوائے بہار میں
سیماب اکبر آبادی

سیماب اکبر آبادی

View profile →

سیماب اکبر آبادی (پیدائش: 5 جون 1880— وفات: 31 جنوری 1951ء) اردو کے نامور اور قادرالکلام شاعر تھے۔ان کا اصل نام عاشق حسین صدیقی تھا۔ سیماب آگرہ، اتر پردیش کے محلے نائی منڈی،کنکوگلی، املی والے گھر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد، محمّد حسین صدیقی بھی شاعر اور حکیم امیرالدین اتتار اکبرآبادی کے شاگرد تھے اور ٹائمز آف انڈیا پریس میں ملازم تھے۔سیماب نے فارسی اور عربی کی تعلیم جمال‌ الدین سرحدی اور رشید احمد گنگوہی سے حاصل کی۔ اسکول گورنمنٹ کالج اجمیر سے الحاق شدہ برانچ اسکول سے میٹرک کیا۔ 1897 میں 17 سال کی عمر میں والد کا انتقال ہو گیا جس کی وجہ سے ایف اے کے آخری سال میں تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔قصرِ ادب ادارے سے ماہنامہ پیمانہ جاری کیا۔ پھر بیک وقت ماہنامہ ثریا، ماہنامہ شاعر، ہفت روزہ تاج، ماہنامہ کنول، سہ روزہ ایشیا شائع کیا۔ ساغر نظامی جو سیماب اکبر آبادی کے شاگرد تھے وہ بھی قصر ادب سے وابستہ رہے۔ ان کی لکھی کتابوں کی تعداد 284 ہے جس میں 22 شعری مَجمُوعے ہیں جن میں "وحی منظوم" بھی شامل ہے جس کی اشاعت کی کوشش 1949 میں ان کو پاکستان لے گئی جہاں کراچی شہر میں 1951 میں انکا انتقال ہوا۔

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR