سیماب اکبر آبادی سیماب اکبر آبادی

آ اپنے دل میں میری تمنا لیے ہوئے

آ اپنے دل میں میری تمنا لیے ہوئے شوق کلام و ذوق تماشا لیے ہوئے دل لے کے خود کو رہتے ہیں کیا کیا لیے ہوئے شیشے وہی تو ہیں مری دنیا لیے ہوئے محرومیوں پہ دل کی مٹا جا رہا ہوں میں ہے خاک تیرا نقش کف پا لیے ہوئے تاریکی فضا کا شکایت گزار ہوں سینے میں آفتاب سویدا لیے ہوئے پہلے مرے سہارے پہ تھا کار و بار زیست اب میں ہوں زندگی کا سہارا لیے ہوئے جی چاہتا ہے عمر محبت نہ ختم ہو مر جائیے کسی کی تمنا لیے ہوئے اپنا وقار عشق کبھی آزما کے دیکھ ہوگی جبین حسن بھی سجدا لیے ہوئے خوش ہوں کہ جیسے گود میں ہے لعل شب چراغ دامن میں اپنے لالۂ صحرا لیے ہوئے نعش رواں ہوں زیست ہے میری فریب زیست پھرتا ہوں زندگی کا جنازہ لیے ہوئے جوش جنوں میں عالم وارفتگی نہ پوچھ صحرا سے ہم گزر گئے صحرا لیے ہوئے سر ان کے آستاں پہ جو پہنچے تو ہو یقیں سودا لیے ہوئے ہے کہ سجدا لیے ہوئے ہم طور پر گئے بھی تو اس شان سے گئے موسیٰ کھڑے رہے ید بیضا لیے ہوئے اے حسن میرے حال میں تو بھی شریک ہو دونوں جہاں کا بار ہوں تنہا لیے ہوئے بے پردہ بے تعین و بے نام دیکھ اسے وہ تو ہے صرف نام کا پردا لیے ہوئے سیمابؔ قدرداں ہیں مرے خان جانسٹھ حاضر ہوا ہوں فکر کا ہدیا لیے ہوئے
سیماب اکبر آبادی

سیماب اکبر آبادی

View profile →

سیماب اکبر آبادی (پیدائش: 5 جون 1880— وفات: 31 جنوری 1951ء) اردو کے نامور اور قادرالکلام شاعر تھے۔ان کا اصل نام عاشق حسین صدیقی تھا۔ سیماب آگرہ، اتر پردیش کے محلے نائی منڈی،کنکوگلی، املی والے گھر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد، محمّد حسین صدیقی بھی شاعر اور حکیم امیرالدین اتتار اکبرآبادی کے شاگرد تھے اور ٹائمز آف انڈیا پریس میں ملازم تھے۔سیماب نے فارسی اور عربی کی تعلیم جمال‌ الدین سرحدی اور رشید احمد گنگوہی سے حاصل کی۔ اسکول گورنمنٹ کالج اجمیر سے الحاق شدہ برانچ اسکول سے میٹرک کیا۔ 1897 میں 17 سال کی عمر میں والد کا انتقال ہو گیا جس کی وجہ سے ایف اے کے آخری سال میں تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔قصرِ ادب ادارے سے ماہنامہ پیمانہ جاری کیا۔ پھر بیک وقت ماہنامہ ثریا، ماہنامہ شاعر، ہفت روزہ تاج، ماہنامہ کنول، سہ روزہ ایشیا شائع کیا۔ ساغر نظامی جو سیماب اکبر آبادی کے شاگرد تھے وہ بھی قصر ادب سے وابستہ رہے۔ ان کی لکھی کتابوں کی تعداد 284 ہے جس میں 22 شعری مَجمُوعے ہیں جن میں "وحی منظوم" بھی شامل ہے جس کی اشاعت کی کوشش 1949 میں ان کو پاکستان لے گئی جہاں کراچی شہر میں 1951 میں انکا انتقال ہوا۔

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR