ساحر لدھیانوی
عشق کی گرمئ جذبات کسے پیش کروں
عشق کی گرمئ جذبات کسے پیش کروں
یہ سلگتے ہوئے دن رات کسے پیش کروں
حسن اور حسن کا ہر ناز ہے پردے میں ابھی
اپنی نظروں کی شکایات کسے پیش کروں
تیری آواز کے جادو نے جگایا ہے جنہیں
وہ تصور وہ خیالات کسے پیش کروں
اے مری جان غزل اے مری ایمان غزل
اب سوا تیرے یہ نغمات کسے پیش کروں
کوئی ہم راز تو پاؤں کوئی ہمدم تو ملے
دل کی دھڑکن کے اشارات کسے پیش کروں