ساحر لدھیانوی
نگاہ ناز کے ماروں کا حال کیا ہوگا
نگاہ ناز کے ماروں کا حال کیا ہوگا
نہ بچ سکے تو بیچاروں کا حال کیا ہوگا
ہمیں نے عشق کے قابل بنا دیا ہے تمہیں
ہمیں نہ ہوں تو نظاروں کا حال کیا ہوگا
ہمارے حسن کی بجلی چمکنے والی ہے
نہ جانے آج ہزاروں کا حال کیا ہوگا
بہار حسن سلامت خزاں سے پوچھ ذرا
کہ چار دن میں بہاروں کا حال کیا ہوگا
ہم اپنے چہرے سے پردہ اٹھا تو دیں لیکن
غریب چاند ستاروں کا حال کیا ہوگا