ساحر لدھیانوی
مجھے یہ پھول نہ دے تجھ کو دلبری کی قسم
مجھے یہ پھول نہ دے تجھ کو دلبری کی قسم
یہ کچھ نہیں ترے ہونٹھوں کی تازگی کی قسم
نظر حسیں ہو تو جلوے حسین لگتے ہیں
میں کچھ نہیں ہوں مجھے میرے حسن ہی کی قسم
تو ایک ساز ہے چھیڑا نہیں کسی نے جسے
ترے بدن میں چھپی نرم راگنی کی قسم
یہ راگنی ترے دل میں ہے میرے تن میں نہیں
پرکھنے والے مجھے تیری سادگی کی قسم
غزل کا لوچ ہے تو نظم کا شباب ہے تو
یقین کر مجھے میری ہی شاعری کی قسم