ساحر لدھیانوی
سمٹی ہوئی یہ گھڑیاں پھر سے نہ بکھر جائیں
سمٹی ہوئی یہ گھڑیاں پھر سے نہ بکھر جائیں
اس رات میں جی لے ہم اس رات میں مر جائیں
اب صبح نہ آ پائے آؤ یہ دعا مانگیں
اس رات کے ہر پل سے راتیں ہی ابھر جائیں
دنیا کی نگاہیں اب ہم تک نہ پہنچ پائیں
تاروں میں بسیں چل کر دھرتی میں اتر جائیں
حالات کے تیروں سے چھلنی ہیں بدن اپنے
پاس آؤ کہ سینوں کے کچھ زخم تو بھر جائیں
آگے بھی اندھیرا ہے پیچھے بھی اندھیرا ہے
اپنی ہیں وہی سانسیں جو ساتھ گزر جائیں
بچھڑی ہوئی روحوں کا یہ میل سہانہ ہے
اس میل کا کچھ احساں جسموں پہ بھی کر جائیں
ترسے ہوئے جذبوں کو اب اور نہ ترساؤ
تم شانے پہ سر رکھ دو ہم باہوں میں بھر جائیں