ساحر لدھیانوی
جیون کے سفر میں راہی ملتے ہیں بچھڑ جانے کو
جیون کے سفر میں راہی ملتے ہیں بچھڑ جانے کو
اور دے جاتے ہیں یادیں تنہائی میں تڑپانے کو
یہ روپ کی دولت والے کب سنتے ہیں دل کے نالہ
تقدیر نہ بس میں ڈالے ان کے کسی دیوانے کو
جو ان کی نظر سے کھیلے دکھ پائے مصیبت جھیلے
پھرتے ہیں یہ سب البیلے دل لے کے مکر جانے کو
دل لے کے دغا دیتے ہیں اک روگ لگا دیتے ہیں
ہنس ہنس کے جلا دیتے ہیں یہ حسن کے پروانہ کو
اب ساتھ نہ گزریں گے ہم لیکن یہ فضا راتوں کی
دہرایا کرے گی ہر دم اس پیار کے افسانے کو
رو رو کے انہیں راہوں میں کھونا پڑا اک اپنے کو
ہنس ہنس کے انہیں راہوں میں اپنایا تھا بیگانے کو
تم اپنی نئی دنیا میں کھو جاؤ پرائے بن کر
جی پائے تو ہم جی لیں گے مرنے کی سزا پانے کو