ساحر لدھیانوی
وقت سے دن اور رات وقت سے کل اور آج
وقت سے دن اور رات وقت سے کل اور آج
وقت کی ہر شے غلام وقت کا ہر شے پہ راج
وقت کی پابند ہیں آتی جاتی رونقیں
وقت ہے پھولوں کی سیج وقت ہے کانٹوں کا تاج
آدمی کو چاہیے وقت سے ڈر کر رہے
کون جانے کس گھڑی وقت کا بدلے مزاج