ساحر لدھیانوی
چھو لینے دو نازک ہونٹوں کو کچھ اور نہیں ہے جام ہے یہ
چھو لینے دو نازک ہونٹوں کو کچھ اور نہیں ہے جام ہے یہ
قدرت نے جو ہم کو بخشا ہے وہ سب سے حسیں انعام ہے یہ
شرما کے نہ یوں ہی کھو دینا رنگین جوانی کی گھڑیاں
بیتاب دھڑکتے سینوں کا ارمان بھرا پیغام ہے یہ
اچھوں کو برا ثابت کرنا دنیا کی پرانی عادت ہے
اس مے کو مبارک چیز سمجھ مانا کہ بہت بدنام ہے یہ