ساحر لدھیانوی
پاؤں چھو لینے دو پھولوں کو عنایت ہوگی
پاؤں چھو لینے دو پھولوں کو عنایت ہوگی
ورنہ ہم کو نہیں ان کو بھی شکایت ہوگی
آپ جو پھول بچھائیں انہیں ہم ٹھکرائیں
ہم کو ڈر ہے کہ یہ توہین محبت ہوگی
دل کی بے چین امنگوں پہ کرم فرماؤ
اتنا رک رک کے چلو گی تو قیامت ہوگی
شرم روکے ہے ادھر شوق ادھر کھینچے ہے
کیا خبر تھی کبھی اس دل کی یہ حالت ہوگی
شرم غیروں سے ہوا کرتی ہے اپنو سے نہیں
شرم ہم سے بھی کرو گے تو مصیبت ہوگی مصیبت ہوگی