Skip to content
اختر شیرانی اختر شیرانی

مری آنکھوں سے ظاہر خوں فشانی اب بھی ہوتی ہے

مری آنکھوں سے ظاہر خوں فشانی اب بھی ہوتی ہے نگاہوں سے بیاں دل کی کہانی اب بھی ہوتی ہے سرور آرا شراب ارغوانی اب بھی ہوتی ہے مرے قدموں میں دنیا کی جوانی اب بھی ہوتی ہے کوئی جھونکا تو لاتی اے نسیم اطراف کنعاں تک سواد مصر میں عنبر فشانی اب بھی ہوتی ہے وہ شب کو مشک بو پردوں میں چھپ کر آ ہی جاتے ہیں مرے خوابوں پر ان کی مہربانی اب بھی ہوتی ہے کہیں سے ہاتھ آ جائے تو ہم کو بھی کوئی لا دے سنا ہے اس جہاں میں شادمانی اب بھی ہوتی ہے ہلال و بدر کے نقشے سبق دیتے ہیں انساں کو کہ ناکامی بنائے کامرانی اب بھی ہوتی ہے کہیں اغیار کے خوابوں میں چھپ چھپ کر نہ جاتے ہوں وہ پہلو میں ہیں لیکن بدگمانی اب بھی ہوتی ہے سمجھتا ہے شکست توبہ اشک توبہ کو زاہد مری آنکھوں کی رنگت ارغوانی اب بھی ہوتی ہے وہ برساتیں وہ باتیں وہ ملاقاتیں کہاں ہمدم وطن کی رات ہونے کو سہانی اب بھی ہوتی ہے خفا ہیں پھر بھی آ کر چھیڑ جاتے ہیں تصور میں ہمارے حال پر کچھ مہربانی اب بھی ہوتی ہے زباں ہی میں نہ ہو تاثیر تو میں کیا کروں ناصح تری باتوں سے پیدا سرگرانی اب بھی ہوتی ہے تمہارے گیسوؤں کی چھاؤں میں اک رات گزری تھی ستاروں کی زباں پر یہ کہانی اب بھی ہوتی ہے پس توبہ بھی پی لیتے ہیں جام غنچہ و گل سے بہاروں میں جنوں کی مہمانی اب بھی ہوتی ہے کوئی خوش ہو مری مایوسیاں فریاد کرتی ہیں الٰہی کیا جہاں میں شادمانی اب بھی ہوتی ہے بتوں کو کر دیا تھا جس نے مجبور سخن اخترؔ لبوں پر وہ نوائے آسمانی اب بھی ہوتی ہے
اختر شیرانی

اختر شیرانی

View profile

اختر شیرانی اردو شاعر، محمد داود خان نام ٹونک (راجپوتانہ) میں پیدا ہوئے۔ تمام عمر لاہور میں گذری۔ والد پروفیسر حافظ محمود خان شیرانی اورینٹل کالج لاہور میں فارسی کے استاد تھے۔ اختر کو بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا۔ منشی فاضل کا امتحان پاس کیا لیکن والد کی کوشش کے باوجود کوئی اور امتحان پاس نہ کر سکے اور شعروشاعری کو مستقل مشغلہ بنا لیا۔ ہمایون اور سہیلی کی ادارت کے بعد رسالہ انقلاب پھر خیالستان نکالا اور پھر رومان جاری کیا۔ شاہکار کی ادارت بھی کی۔ اردو شاعری میں اختر پہلا رومانی شاعر ہے جس نے اپنی شاعری میں عورت سے خطاب کیا۔ عالم جوانی میں ہی اختر کو شراب نوشی کی لت پڑ چکی تھی، جو آخر کار جان لیوا ثابت ہوئی۔ لاہور میں انتقال ہوا اور میانی صاحب میں دفن ہوئے۔اختر شیرانی کو رومانی نظم نگار کی حیثیت سے شہرت حاصل ہوئی لیکن ان کے شعری مجموعوں میں غزلوں کی کمی نہیں۔ اگر چند رباعیوں اور کچھ ماہییوں کو نظر انداز کر دیا جائے تو ان کا شعری مجموعہ "طیور آوارہ" صرف غزلوں پر مشتمل ہے۔ "شہناز" اور "شہزدو" میں بھی قابل ذکر تعداد میں غزلیات موجود ہیں۔ اختر شیرانی کی غزلوں میں روایتی مضامین جابجا دکھائی دیتے ہیں اور بیشتر نظموں میں باندھے گئے مضامین بھی غزلوں میں در آتے ہیں۔ ان کی غزلوں کا نمایاں حصہ خمریات سے ملمز ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR