Skip to content
اختر شیرانی اختر شیرانی

نکہت زلف سے نیندوں کو بسا دے آ کر

نکہت زلف سے نیندوں کو بسا دے آ کر میری جاگی ہوئی راتوں کو سلا دے آ کر فکر فردا و غم دوش بھلا دے آ کر پھر اسی ناز سے دیوانہ بنا دے آ کر عشق کو نغمۂ امید سنا دے آ کر دل کی سوئی ہوئی قسمت کو جگا دے آ کر کس قدر تیرہ و تاریک ہے دنیائے حیات جلوۂ حسن سے اک شمع جلا دے آ کر عشق کی چاندنی راتیں مجھے یاد آتی ہیں عمر رفتہ کو مری مجھ سے ملا دے آ کر زندگی بن کے مرے دل میں سما جا سلمیٰ موت اک پردہ ہے یہ پردہ اٹھا دے آ کر آگ سی دل میں لگا جاتا ہے تیرا ہر خط آ مرے خرمن ہستی کو جلا دے آ کر تیری فرقت میں مرے شعر ہیں کتنے غمگیں مسکراتی ہوئی نظروں سے ہنسا دے آ کر پھر وہی ہم ہوں وہی دن ہوں وہی راتیں ہوں عہد رفتہ کو پھر آئینہ دکھا دے آ کر شوق نادیدہ میں لذت ہے مگر ناز نہیں آ مرے عشق کو مغرور بنا دے آ کر شب فرقت پہ مری ہنستے ہیں اے خندۂ نور میرے قدموں پہ ستاروں کو گرا دے آ کر تشنۂ حسن ہوں اے ساقی مے خانۂ حسن اپنے ہونٹوں سے پھر اک جام پلا دے آ کر کب تلک رونق شام اودھ اے ماہ رواں شام لاہور کو بھی صبح بنا دے آ کر ہو چکی سیر بہاراں کدۂ قیصر باغ باغ لارنس میں بھی پھول کھلا دے آ کر گومتی دیکھ چکی جلوۂ عارض کی بہار سطح راوی کو بھی آئینہ بنا دے آ کر تیرا رومان نیا خواب ہے اخترؔ کے لیے آ اور اس خواب کی تعبیر بتا دے آ کر
اختر شیرانی

اختر شیرانی

View profile

اختر شیرانی اردو شاعر، محمد داود خان نام ٹونک (راجپوتانہ) میں پیدا ہوئے۔ تمام عمر لاہور میں گذری۔ والد پروفیسر حافظ محمود خان شیرانی اورینٹل کالج لاہور میں فارسی کے استاد تھے۔ اختر کو بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا۔ منشی فاضل کا امتحان پاس کیا لیکن والد کی کوشش کے باوجود کوئی اور امتحان پاس نہ کر سکے اور شعروشاعری کو مستقل مشغلہ بنا لیا۔ ہمایون اور سہیلی کی ادارت کے بعد رسالہ انقلاب پھر خیالستان نکالا اور پھر رومان جاری کیا۔ شاہکار کی ادارت بھی کی۔ اردو شاعری میں اختر پہلا رومانی شاعر ہے جس نے اپنی شاعری میں عورت سے خطاب کیا۔ عالم جوانی میں ہی اختر کو شراب نوشی کی لت پڑ چکی تھی، جو آخر کار جان لیوا ثابت ہوئی۔ لاہور میں انتقال ہوا اور میانی صاحب میں دفن ہوئے۔اختر شیرانی کو رومانی نظم نگار کی حیثیت سے شہرت حاصل ہوئی لیکن ان کے شعری مجموعوں میں غزلوں کی کمی نہیں۔ اگر چند رباعیوں اور کچھ ماہییوں کو نظر انداز کر دیا جائے تو ان کا شعری مجموعہ "طیور آوارہ" صرف غزلوں پر مشتمل ہے۔ "شہناز" اور "شہزدو" میں بھی قابل ذکر تعداد میں غزلیات موجود ہیں۔ اختر شیرانی کی غزلوں میں روایتی مضامین جابجا دکھائی دیتے ہیں اور بیشتر نظموں میں باندھے گئے مضامین بھی غزلوں میں در آتے ہیں۔ ان کی غزلوں کا نمایاں حصہ خمریات سے ملمز ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR