Skip to content
اختر شیرانی اختر شیرانی

کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئے

کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئے کیا کچھ ہوا ہے دل پہ اثر کچھ نہ پوچھئے وہ دیکھنا کسی کا کنکھیوں سے بار بار وہ بار بار اس کا اثر کچھ نہ پوچھئے رو رو کے کس طرح سے کٹی رات کیا کہیں مر مر کے کیسے کی ہے سحر کچھ نہ پوچھئے اخترؔ دیار حسن میں پہنچے ہیں مر کے ہم کیوں کر ہوا ہے طے یہ سفر کچھ نہ پوچھئے
اختر شیرانی

اختر شیرانی

View profile

اختر شیرانی اردو شاعر، محمد داود خان نام ٹونک (راجپوتانہ) میں پیدا ہوئے۔ تمام عمر لاہور میں گذری۔ والد پروفیسر حافظ محمود خان شیرانی اورینٹل کالج لاہور میں فارسی کے استاد تھے۔ اختر کو بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا۔ منشی فاضل کا امتحان پاس کیا لیکن والد کی کوشش کے باوجود کوئی اور امتحان پاس نہ کر سکے اور شعروشاعری کو مستقل مشغلہ بنا لیا۔ ہمایون اور سہیلی کی ادارت کے بعد رسالہ انقلاب پھر خیالستان نکالا اور پھر رومان جاری کیا۔ شاہکار کی ادارت بھی کی۔ اردو شاعری میں اختر پہلا رومانی شاعر ہے جس نے اپنی شاعری میں عورت سے خطاب کیا۔ عالم جوانی میں ہی اختر کو شراب نوشی کی لت پڑ چکی تھی، جو آخر کار جان لیوا ثابت ہوئی۔ لاہور میں انتقال ہوا اور میانی صاحب میں دفن ہوئے۔اختر شیرانی کو رومانی نظم نگار کی حیثیت سے شہرت حاصل ہوئی لیکن ان کے شعری مجموعوں میں غزلوں کی کمی نہیں۔ اگر چند رباعیوں اور کچھ ماہییوں کو نظر انداز کر دیا جائے تو ان کا شعری مجموعہ "طیور آوارہ" صرف غزلوں پر مشتمل ہے۔ "شہناز" اور "شہزدو" میں بھی قابل ذکر تعداد میں غزلیات موجود ہیں۔ اختر شیرانی کی غزلوں میں روایتی مضامین جابجا دکھائی دیتے ہیں اور بیشتر نظموں میں باندھے گئے مضامین بھی غزلوں میں در آتے ہیں۔ ان کی غزلوں کا نمایاں حصہ خمریات سے ملمز ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR