Skip to content
اختر شیرانی اختر شیرانی

نہ تمہارا حسن جواں رہا نہ ہمارا عشق جواں رہا

نہ تمہارا حسن جواں رہا نہ ہمارا عشق جواں رہا نہ وہ تم رہے نہ وہ ہم رہے جو رہا تو غم کا سماں رہا نہ وہ باغ ہیں نہ گھٹائیں ہیں نہ وہ پھول ہیں نہ فضائیں ہیں نہ وہ نکہتیں نہ ہوائیں ہیں نہ وہ بے خودی کا سماں رہا نہ وہ دل ہے اب نہ جوانیاں نہ وہ عاشقی کی کہانیاں نہ وہ غم نہ اشک فشانیاں نہ وہ درد دل کا نشاں رہا نہ چمن ہے وہ نہ بہار ہے نہ وہ بلبلیں نہ ہزار ہے یہی چار سمت پکار ہے نہ وہ رت ہے اب نہ سماں رہا نہ وہ عمر ہے نہ مسرتیں نہ وہ عیش ہے نہ وہ عشرتیں نہ وہ آرزوئیں نہ حسرتیں نہ خوشی کا نام و نشاں رہا نہ نشاں ہے ساقی و جام کا نہ وہ بادہ ہائے چمن ادا نہ مغنیہ رہی محو ساز نہ ساز مست فغاں رہا یہ بہار گلشن آب و گل ہے فنا اثر تو ہوں کیوں خجل وہ گل فسردہ ہے میرا دل کہ ہمیشہ نذر خزاں رہا نہیں صبر ساقیا لا بھی دے قدح بہار اٹھا بھی دے ابھی سن ہے لا کے پلا بھی دے کہ ہمیشہ کون جواں رہا کہوں کیا کہ رنج رسیدہ ہوں میں برنگ ابر رمیدہ ہوں نفس شمیم پریدہ ہوں کہ رہا تباہ جہاں رہا اثر بہار خزاں اثر ہے کہ ہے فسردہ مری نظر نہ ہوائے عشرت بال و پر نہ جنون باغ جناں رہا میں گل رمیدۂ رنگ و بو تو بہار مے کدۂ نمو میں ہمیشہ خستۂ آرزو تو ہمیشہ عیش جواں رہا نہ سکون دل نہ قرار جاں نہ قیام صبر کوئی زماں یہ سرشک غم کا ہے کارواں کہ یوں ہی ہمیشہ رواں رہا تو متاع گل کدۂ نظر گل نو بہار بہشت اثر میں وہ عندلیب شکستہ پر کہ ہمیشہ محو فغاں رہا نہ وہ سوز و ساز دروں ہے اب نہ وہ چشم گل کدۂ گوں ہے اب نہ وہ سر ہے اب نہ جنوں ہے اب نہ وہ ذوق شعلہ چکاں رہا ہے فلک کی بدلی ہوئی نظر کہیں کسی سے اخترؔ نالہ گر کہ میں اس کے جور الم اثر سے ہمیشہ محو فغاں رہا
اختر شیرانی

اختر شیرانی

View profile

اختر شیرانی اردو شاعر، محمد داود خان نام ٹونک (راجپوتانہ) میں پیدا ہوئے۔ تمام عمر لاہور میں گذری۔ والد پروفیسر حافظ محمود خان شیرانی اورینٹل کالج لاہور میں فارسی کے استاد تھے۔ اختر کو بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا۔ منشی فاضل کا امتحان پاس کیا لیکن والد کی کوشش کے باوجود کوئی اور امتحان پاس نہ کر سکے اور شعروشاعری کو مستقل مشغلہ بنا لیا۔ ہمایون اور سہیلی کی ادارت کے بعد رسالہ انقلاب پھر خیالستان نکالا اور پھر رومان جاری کیا۔ شاہکار کی ادارت بھی کی۔ اردو شاعری میں اختر پہلا رومانی شاعر ہے جس نے اپنی شاعری میں عورت سے خطاب کیا۔ عالم جوانی میں ہی اختر کو شراب نوشی کی لت پڑ چکی تھی، جو آخر کار جان لیوا ثابت ہوئی۔ لاہور میں انتقال ہوا اور میانی صاحب میں دفن ہوئے۔اختر شیرانی کو رومانی نظم نگار کی حیثیت سے شہرت حاصل ہوئی لیکن ان کے شعری مجموعوں میں غزلوں کی کمی نہیں۔ اگر چند رباعیوں اور کچھ ماہییوں کو نظر انداز کر دیا جائے تو ان کا شعری مجموعہ "طیور آوارہ" صرف غزلوں پر مشتمل ہے۔ "شہناز" اور "شہزدو" میں بھی قابل ذکر تعداد میں غزلیات موجود ہیں۔ اختر شیرانی کی غزلوں میں روایتی مضامین جابجا دکھائی دیتے ہیں اور بیشتر نظموں میں باندھے گئے مضامین بھی غزلوں میں در آتے ہیں۔ ان کی غزلوں کا نمایاں حصہ خمریات سے ملمز ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR