Skip to content
میرا جی میرا جی

ڈھب دیکھے تو ہم نے جانا دل میں دھن بھی سمائی ہے

ڈھب دیکھے تو ہم نے جانا دل میں دھن بھی سمائی ہے میراجیؔ دانا تو نہیں ہے عاشق ہے سودائی ہے صبح سویرے کون سی صورت پھلواری میں آئی ہے ڈالی ڈالی جھوم اٹھی ہے کلی کلی لہرائی ہے جانی پہچانی صورت کو اب تو آنکھیں ترسیں گی نئے شہر میں جیون دیوی نیا روپ بھر لائی ہے ایک کھلونا ٹوٹ گیا تو اور کئی مل جائیں گے بالک یہ انہونی تجھ کو کس بیری نے سجھائی ہے دھیان کی دھن ہے امر گیت پہچان لیا تو بولے گا جس نے راہ سے بھٹکایا تھا وہی راہ پر لائی ہے بیٹھے ہیں پھلواری میں دیکھیں کب کلیاں کھلتی ہیں بھنور بھاؤ تو نہیں ہے کس نے اتنی راہ دکھائی ہے جب دل گھبرا جاتا ہے تو آپ ہی آپ بہلتا ہے پریم کی ریت اسے جانو پر ہونی کی چترائی ہے امیدیں ارمان سبھی جل دے جائیں گے جانتے تھے جان جان کے دھوکے کھائے جان کے بات بڑھائی ہے اپنا رنگ بھلا لگتا ہے کلیاں چٹکیں پھول بنیں پھول پھول یہ جھوم کے بولا کلیو تم کو بدھائی ہے آبشار کے رنگ تو دیکھے لگن منڈل کیوں یاد نہیں کس کا بیاہ رچا ہے دیکھو ڈھولک ہے شہنائی ہے ایسے ڈولے من کا بجرا جیسے نین بیچ ہو کجرا دل کے اندر دھوم مچی ہے جگ میں اداسی چھائی ہے لہروں سے لہریں ملتی ہیں ساگر امڈا آتا ہے منجدھار میں بسنے والے نے ساحل پر جوت جگائی ہے آخری بات سنائے کوئی آخری بات سنیں کیوں ہم نے اس دنیا میں سب سے پہلے آخری بات سنائی ہے
میرا جی

میرا جی

View profile

میراجی، جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ تھا۔ منشی محمد مہتاب الدین کے ہاں 25 مئی، 1912ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ پہلے ”ساحری“ تخلص کرتے تھے۔ لیکن ایک بنگالی لڑکی ”میرا سین“ کے یک طرفہ عشق میں گرفتار ہو کر ”میراجی“ تخلص اختیار کر لیا۔ میراجی کی ذات سے ایسے واقعات وابستہ ہیں کہ ان کی ذات عام آدمی کے لیے ایک افسانہ بن کر رہ گئی ہے۔ اُن کا حلیہ اور ان کی حرکات و سکنات ایسی تھیں کہ یوں معلوم ہوتا تھا انہوں نے سلسلہ ملامتیہ میں بیعت کر لی ہے۔ لمبے لمبے بال ،بڑی بڑی مونچھیں، گلے میں مالا، شیروانی پھٹی ہوئی، اوپر نیچے بیک وقت تین پتلونیں، اوپر کی جب میلی ہو گئی تو نیچے کی اوپر اور اوپر کی نیچے بدل جاتی۔ شیروانی کی دونوں جیبوں میں بہت کچھ ہوتا۔ کاغذوں اور بیاضوں کا پلندہ بغل میں دابے بڑی سڑک پر پھرتا تھااور چلتے ہوئے ہمیشہ ناک کی سیدھ میں دیکھتا تھا۔ وہ اپنے گھر اپنے محلے اور اپنی سوسائٹی کے ماحول کو دیکھ دیکھ کر کڑتا تھا اس نے عہد کر رکھا تھا کہ وہ اپنے لیے شعر کہے گا۔ صرف 38 سال کی عمر میں 3 نومبر، 1949ء کو انتقال کرگئے۔ اس مختصر سی عمر میں میراجی کی تصانیف میں ”مشرق و مغرب کے نغمے“ ”اس نظم میں “”نگار خانہ“”خیمے کے آس پاس“ شامل ہیں۔ جبکہ میراجی کی نظمیں، گیت ہی گیت، پابند نظمیں اور تین رنگ بھی شاعری کے مجموعے ہیں۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR